برٹنی سپیئرز والد کی ’ظالمانہ‘ سرپرستی سے نکل آئیں

Spread the Story
  • 213
    Shares

لاس اینجلس کی ایک عدالت نے گلوکارہ برٹنی سپیئرز کے والد کو اپنی بیٹی کے سرپرست کی حیثیت سے متنازع کردار کو ختم کرنے کا حکم دے دیا، جس سے معروف گلوکارہ کی طویل اور تلخ قانونی جنگ ختم ہو گئی۔

جج برینڈا پینی نے کہا کہ جیمی سپیئرز کی سرپرستی کو فوری طور پر معطل کر دیا گیا ہے اور ان کی جگہ گلوکار کے بہترین مفادات میں عارضی کنزرویٹر (نگران) رکھا گیا ہے۔

رواں سال کے اختتام سے قبل جیمی کی سرپرستی کو مکمل طور پر ختم کرنے کے لیے سماعت متوقع ہے۔

جج نے کہا: ’مسٹر جیمی سپیئرز کو حکم دیا جاتا ہے کہ وہ کنزرویٹری شپ کے تمام اثاثے تبدیل کردیں۔‘

برٹنی سپیئرز کے والد نے گذشتہ 13 سالوں سے ان زندگی کو کنٹرول کر رکھا تھا۔ 39 سالہ امریکی گلوکارہ نے متنازع قانونی انتظام کے تحت اپنے والد کے کردار کو ’بدسلوکی‘ سے تعبیر کیا اور اپنے وکلا کے ذریعے اسے ختم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

بدھ کو یہ عدالتی فیصلہ کئی سالوں سے جاری قانونی جنگ کے بعد سامنے آیا ہے، جو عوامی سطح پر چلائی گئی تھی۔ جیمی سپیئرز پر اپنی بیٹی کی فون کالز کو سننے کا بھی الزام ہے۔

سماعت سے قبل لاس اینجلس کے کمرہ عدالت کے باہر پاپ گلوکارہ کے درجنوں حامی جمع تھے، جبکہ سوشل میڈیا پر بھی ان کی حمایت میں ’فری برٹنی‘ مہم چلائی گئی۔

برٹنی سپیئرز کے وکیل میتھیو روزنگارٹ نے ان کے والد کی سرپرستی ختم کرنے کے لیے تحریک پیش کی تھی۔

درخواست میں کہا گیا کہ ’ہر دن جو انہوں نے برٹنی کے ساتھ بطور سرپرست گزرے، اس ہر دن اور ہر گھنٹے وہ اپنی بیٹی کو تکلیف اور اذیت دیتے تھے۔‘

نیو یارک ٹائمز کی ایک دستاویزی فلم نے بھی ان دعوؤں کو تقویت بخشی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ جیمی سپیئرز نے مبینہ طور پر اپنی بیٹی کے بیڈروم میں خفیہ طور پر نگرانی کے آلات نصب کیے تھے تاکہ ان کی گفتگو ریکارڈ کی جاسکے۔

سکیورٹی فرم کے ایک سابق ملازم نے دستاویزی فلم ’کنٹرولنگ برٹنی سپیئرز‘ بنانے والوں کو بتایا: ’ان (برٹنی) کو دیکھ کر لگتا تھا کہ وہ جیل میں قید ہیں۔‘

پاپ سٹار کے وکلا نے اس ہفتے کہا کہ نیویارک ٹائمز کے الزامات سے ثابت ہوتا ہے کہ جیمی سپیئرز نے اپنی بالغ بیٹی کی رازداری پر خوفناک اور ناقابل فہم حملے کیے۔

دوسری جانب جیمی سپیئرز کسی بھی غیر قانونی نگرانی کی تردید کرتے ہیں۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

منگل کو ریلیز ہونے والی نیٹ فلکس کی ایک اور دستاویزی فلم ’برٹنی ورسز سپیئرز‘ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ گلوکارہ نے سرپرستی کے ابتدائی سالوں میں دو بار اپنے وکیل کی خدمات حاصل کرنے کی کوشش کی، لیکن انہیں انکار کر دیا گیا۔

جولائی میں سپیئرز نے بالآخر اپنے وکیل روزنگارٹ کو مقرر کرنے میں کامیاب حاصل کی اور پچھلے مہینے ان کے والد نے کنزرویٹری شپ کے خاتمے کو روکنے کے لیے ایک درخواست دائر کی تھی۔

اپنی درخواست میں  برٹنی سپیئرز کے وکلا نے ان کے والد پر الزام لگایا کہ وہ اپنے مالی فائدے کے لیے سرپرستی کے خاتمے میں تاخیر کرنا چاہتے ہیں۔

دریں اثنا جیمی سپیئرز نے اپنی بیٹی کی جانب سے ان کی جگہ نئے عارضی کنزرویٹر کے انتخاب پر اعتراض کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوامی شخصیت جان زابیل کے پاس ضروری تجربے کی کمی ہے۔





Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.