انسٹاگرام کا اپنی سروس کی بندش سے خود صارفین کو آگاہ کرنے کا فیصلہ

Spread the Story
  • 213
    Shares

چند دن پہلے دنیا بھر کے لاکھوں انٹرنیٹ صارفین نے ٹوئٹر کا رخ کرکے فیس بک سروسز بشمول انسٹاگرام اور واٹس ایپ کے کام نہ کرنے کی شکایات کی تھیں۔

اب فیس بک سروسز میں آنے والی اس خرابی پر لاتعداد اسٹوریز اور لوگوں کی شکایات کو دیکھتے ہوئے سوشل میڈیا نیٹ ورک نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ مستقبل میں وہ خود آپ کو اس طرح کے مسئلے سے آگاہ کرے گا۔

اسی مقصد کے لیے انسٹا گرام میں ایک فیچر کی آزمائش شروع ہوئی ہے جو آپ کو ایکٹیویٹی فیڈ پر تیکنیکی خامی یا سروس مسائل کی تفصیلات فراہم کرے گا۔

مگر اس سے بھی بڑھ کر کمپنی کی جانب سے یہ بھی آگاہ کیا جائے گا کہ کب یہ مسئلہ ٹھیک ہوگیا اور سب کچھ معمول پر آگیا ہے۔

انسٹا گرام نے اس حوالے سے بتایا کہ ہم ہر بار سروس کے متاثر ہونے پر آگاہ نہیں کریں گے مگر جب ہم دیکھیں گے کہ لوگ الجھن کے شکار ہیں اور جواب چاہتے ہیں تو ہم تعین کریں گے ہم کس طرح معاملات واضح کرنے میں ان کی مدد کرسکتے ہیں۔

اس فیچر کی آزمائش ابھی امریکا میں ہورہی ہے اور عالمی سطح پر اسے جلد توسیع دیئے جانے کا امکان ہے۔

سروس متاثر ہونے کے نوٹیفکیشن کے ساتھ ساتھ انسٹا گرام کی جانب سے اکاؤنٹ اسٹیٹس نامی ٹول بھی متعارف کرایا جا رہا ہے۔

یہ ٹول صارفین رپورٹ ہونے والی پوسٹس اور مواد سے آگاہ کرے گا، یعنی ایک طرح کا ہب ہوگا جو آپ کو بتائے گا کب آپ سوشل میڈیا نیٹ ورک کے اصولوں کی خلاف ورزی کررہے ہیں۔

اسی طرح یہ بھی بتایا جائے گا کہ آپ کے اکاؤنٹ پر پابندی کا خطرہ تو نہیں۔

یاد رہے کہ 4 اکتوبر کو چھ گھنٹے سے زائد وقت تک کروڑوں افراد فیس بک انسٹاگرام یا واٹس ایپ تک رسائی حاصل کرنے سے قاصر تھے جس نے سلیکن ویلی کی بڑی کمپنی کی ملکیت والے پلیٹ فارم پر دنیا کے انحصار کو واضح کیا۔

جس کے بعد ایک معذرت خواہانہ بلاگ پوسٹ میں فیس بک کے نائب صدر برائے انفرا اسٹرکچر سنتوش جنردھن نے کہا تھا کہ بندش کی وجہ ڈیٹا سینٹرز کے درمیان نیٹ ورک ٹریفک میں تعاون کرنے والے راؤٹرز کی کنفگریشن تبدیلیوں کی وجہ سے بندش کا سامنا کرنا پڑا۔

بعد ازاں 9 اکتوبر کی درمیانی شب کو سب سے پہلے فوٹو شیئرنگ ایپ انسٹاگرام کی سروس متاثر ہوئی جس کے کچھ دیر بعد صارفین کی جانب سے فیس بک اور میسنجر تک رسائی کی شکایات بھی سامنے آئیں۔




install suchtv android app on google app store

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.