میچ سے پانچ گھنٹے پہلے شاہین آفریدی کو والد نے کیا کہا تھا؟

Spread the Story
  • 213
    Shares

آئی سی سی کرکٹ ٹی 20 میں بھارت کے خلاف میچ میں عمدہ کارکردگی دکھانے والے پاکستانی سٹار بولر شاہین شاہ آفریدی کے والد کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے بیٹے کو بھارت کے خلاف ایسی ہی کارکردگی کی نصیحت کی تھی۔

شاہین شاہ آفریدی بھارت کے خلاف میچ کے بہترین کھلاڑی قرار پائے تھے۔

انہوں نے بھارتی اننگز کے پہلے ہی اوور سے جو دباؤ مخالف ٹیم پر ڈالا اس سے بھارتی بلے باز پوری اننگز باہر نہ نکل سکے۔

شاہین شاہ آفرید نے اپنے پہلے ہی اوور میں بھارت کے سٹار بلے باز روہت شرما کو آؤٹ کیا اور پھر سب سے ان فارم بلے باز کے ایل راہل کو بھی صرف تین رنز پر کلین بولڈ کر دیا۔

انہوں نے میچ سے قبل ہی کہا تھا کہ ان کی نظر بھارت کے ابتدائی تین بلے بازوں پر ہے اور انہوں نے ایسا ہی کیا جب ان کے آخری اوور میں وراٹ کوہلی بھی 57 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئے۔

اس طرح انہوں نے اپنے چار اوورز میں 31 رنز دے کر تین وکٹیں حاصل کیں۔

ان کی اس کارکردگی پر ان کے والد ایاز آفریدی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’میں نے شاہین کو میچ سے پانچ گھنے قبل فون کر کے کہا تھا کہ ہار جیت ہوتی ہے لیکن بھارت کے خلاف ایسی کارکردگی دکھانی ہے کہ دنیا تعریف کرے۔‘

ایاز آفریدی کہتے ہیں کہ ان کے بیٹے نے ایسا ہی کیا جس پر انہیں فخر ہے۔

’شاہین آفریدی کو کھیلتے دیکھتا ہوں تو خوشی سے آنکھیں بھر آتی ہیں۔ میرا بیٹا کرکٹ ٹیم میں پسماندہ علاقے سے ملک کی نمائندگی کر رہا ہے۔‘

ان کے والد ملک ایاز آفریدی کہتے ہیں کہ شاہین بیٹوں میں سب سے چھوٹے ہیں اور بچپن سے سکول سے آکر بلا اور بال لے کر اپنے مقامی گراؤنڈ تاتارہ جایا کرتے تھے جہاں شام تک وہ کھیلتے رہتے تھے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’بچپن سے ہی وہ کرکٹ سے جنون کی حد تک محبت رکھتا تھا، سکولوں کے سالانہ مقابلوں میں وہ بے حد دلچسپی لیتا اور اپنی سکول کی ٹیم کے لیے ٹرافی جیتنے کے لیے سرتوڑ کوشش کرتا۔‘

آیاز آفریدی بتاتے ہیں کہ ’کھبی کبھار شام کو گھر آتےاتو ان کے چہرے پر میچ ہارنے کی اداسی واضح دکھائی دیتی تھی۔‘

واضح تہے کہ شاہین آفریدی کے بڑے بھائی ریاص آفریدی بھی ٹیسٹ کرکٹر رہ چکے ہیں۔

شاہین آفریدی کے والد بتاتے ہیں کہ ریاض آفریدی نے کرکٹ کے حوالے سے شاہین کی تربیت میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، یہی وجہ ہے کہ ان کو وہ مقام حاصل ہوا جس کے لیے انہوں نے بھاگ دوڑ کی۔

’جب شاہین آفریدی کسی م’ٹورنامنٹ کے لیے جاتا ہے کہ میں نصیحت کرتا ہوں کہ کھبی غصہ نہ کرنا، جذبات پر قابو رکھ کر کھیلنے کی کوشش کرنا اور عمدہ اخلاق کا مظاہرہ کرنا ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی بتاتا ہوں کہ کھیل میں ہار جیت  ہوتی ہے مگر اپنی ہمت اور حوصلے کو آخری دم تک نہ ہارنا۔‘

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.