بھارتی جیوری نے ’سردار ادھم‘ آسکر کے لیے خود ہی مسترد کر دی

Spread the Story
  • 213
    Shares

ایک بھارتی جیوری نے فلم ’سردار ادھم‘ کو آسکر 2022 کے لیے ملک کی باضابطہ انٹری کے طور پر منظور نہیں کیا کیونکہ ان کے مطابق فلم ’برطانویوں کے خلاف نفرت پھیلاتی‘ ہے۔

شوجیت سرکار کی ہدایت کاری میں بننے والی یہ فلم ایک انقلابی آزادی پسند سردار ادھم سنگھ کی زندگی پر مبنی ہے۔ وہ امرتسر میں 1919 کے جلیانوالہ باغ قتل عام کا بدلہ لینے کے لیے لندن میں پنجاب کے سابق گورنر مائیکل اوڈائر کو قتل کرنے کے لیے مشہور ہیں۔

مائیکل اوڈائر 1913 سے 1919 کے درمیان ہندوستان کی ریاست پنجاب میں برطانوی لیفٹیننٹ گورنر تھے۔

مائیکل اوڈائر کے دور میں ہی جلیانوالہ باغ قتل عام ہوا، جہاں برطانوی فوجیوں نے پرامن مظاہرین پر اس وقت تک فائرنگ کی جب تک کہ ان کا گولہ بارود ختم نہیں ہوا۔

اس واقعے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 379 سے لے کر 1500 کے درمیان ہے۔

فلم کا انتخاب نہ ہونے کی وضاحت کرتے ہوئے بھارت کے موسیقار اندرادیپ داس گپتا نے ٹائمز آف انڈیا کو بتایا: ’سردار ادھم تھوڑی لمبی ہے اور جلیانوالہ باغ کے واقعے کا ذکر کرتی ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’ہندوستانی جدوجہد آزادی کے ایک بے نام ہیرو پر ایک پرتکلف فلم بنانا ایک ایماندارانہ کوشش ہے، لیکن اس عمل میں یہ ایک بار پھر انگریزوں کے خلاف ہماری نفرت کا اظہار کرتی ہے۔ گلوبلائزیشن کے اس دور میں اس نفرت سے جڑے رہنا مناسب نہیں ہے۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

 بھارتی پروڈکشن ڈیزائنر سمت باسو نے اس حوالے سے کہا کہ بہت سے لوگوں نے سردار ادھم کو اس کے سینیما کے معیار کے لیے پسند کیا ہے، جس میں کیمرہ ورک، ایڈیٹنگ، ساؤنڈ ڈیزائن اور اس دور کی تصویر کشی شامل ہے۔

’میں نے سوچا کہ فلم کی طوالت ایک مسئلہ ہے۔ اس کا عروج تاخیر سے ہوتا ہے۔ جلیانوالہ باغ قتل عام کے شہیدوں کے لیے ایک ناظر کو اصل تکلیف محسوس کرنے میں بہت وقت لگتا ہے۔‘

دوسری جانب جیوری کے فیصلے سے شائقین کافی پریشان ہیں۔

سٹوڈنٹس فیڈریشن آف انڈیا کی جوائنٹ سیکرٹری دیپسیتا دھر نے کہا کہ سردار ادھم کو آسکر نامزدگی کے لیے ایک بھارتی (جیوری) نے مسترد کیا، جس میں کہا گیا تھا کہ اس میں برطانویوں کے خلاف بہت زیادہ نفرت ہے۔

دھر نے سوال کیا کہ ’یہ فلم سامراجیت سے نفرت کو ظاہر کرتی ہے لیکن کسی خاص نسل کے لیے نہیں۔ یہ فلم آزادی کے بارے میں تھی اور ہمارے انقلابی کس حد تک آگے بڑھے اور اس کے بدلے میں ہم یہی دیتے ہیں؟‘

سپریم کورٹ کے وکیل ششانک شیکرجھا نے لکھا: ’میں نے سردار ادھم اب تک نہیں دیکھی ہے تاہم اسے مسترد کرنے کی منطق ایک مسئلہ ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’ان لوگوں کو ان کے عہدوں سے ہٹانا ضروری ہے۔ سردار ادھم جیسے آزادی پسند ہمارے آئیکون ہیں، جنہوں نے اس ملک کے لیے سب کچھ قربان کردیا۔ ہم انہیں مایوس نہیں کر سکتے۔‘





Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.