بھارت میں راہول گاندھی اور پاکستان میں بلاول بھٹو کے ہاتھ میں وزارت عظمیٰ کی لکیر ہے ہی نہیں ، اقتدار انکو ملے گا جو ۔۔۔۔۔۔۔۔سیاسیات کے ایک تجربہ کار پروفیسر کی باتیں – Hassan Nisar Official Urdu News Website

Spread the Story
  • 213
    Shares



لاہور (گلوبل کرنٹ نیوز) ہمارے شعبہ سیاسیات کے استاد کہتے ہیں کہ کوئی چائے والا وزیراعظم بن جائے یا کوئی بلے والامگربرصغیر پاک وہندمیں ایک راہول گاندھی اور دوسرے بلاول زرداری، ان کے ہاتھوں میں وزارت عظمیٰ کی لکیریں ہی نہیں ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اقتدا ر اسی کو ہی ملے گا جو پنجاب میں


اپنا شئیر لے جا سکے گا اور پیپلزپارٹی کی پنجاب ، کے پی کے میں وہ حالت ہے جو جماعت اسلامی کی ملک بھر میں ہے۔ابھی میں چند روز پہلے پروفیسر نعیم مسعود کی پیپلزپارٹی کی پنجاب کے ایک ایک ضلعے میں جانے والے ناموں والی لسٹ پڑھ رہا تھا تو اندازہ ہو رہا تھا کہ ملک کے سب سے بڑے صوبے میں یہ پارٹی کونسلر لیول کی اہمیت کی حامل بھی نہیں رہی۔ ایک راز کی بات بتاو¿ں کہ پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے پیپلزپارٹی نے پنجاب میں اپنے سیاسی او رجمہوری سو چ کے حامل ووٹر کی توجہ پھر حاصل کرنا شروع کر دی تھی مگر بلاول کی منتخب ہونے کی شدید خواہش نے پھر ایسی تیسی کر دی۔ کسی نے پیپلزپارٹی کی پنجاب میں کہانی سننی ہو تو سابق رکن قومی اسمبلی اور پارٹی کے فنانس سیکرٹری اورنگزیب برکی سے سن لے مگر یہ فکر ان کو کرنی ہے جنہوں نے بے بی بلاول کو منتخب کیا ہے۔میرے خیال میں بلاول کو پرائم منسٹر سلیکٹڈ بنانے کے لئے پنجاب سے الیکٹ ایبلز کو پی پی پی کی راہ دکھائی جا سکتی ہے۔ جنوبی پنجاب سے سیٹیں بھی نکالی جا سکتی ہیں۔ بلوچستان کے ہمیشہ سے اقتدار پسندوں، کے پی کے سے اے این پی وغیرہ کے ساتھ مل کر ماحول بنایا جا سکتا ہے، میرے دوست شوکت بسرا کو بھی وہاں سے کچھ نہ ملنے پر اب واپسی کی راہ نکالنی چاہئے۔مجھے بطور تجزیہ نگار یوں لگ رہا ہے کہ ہماری سیاسی تاریخ کولہو کے بیل کی طرح اسی دائرے میں اپنے چکر کاپھر آغاز کرنے لگی ہے۔ اس پر بات کرنے سے پہلے یہ کہتا چلوں، اگر بے بی بلاول سلیکٹ ہوتے ہیں تو کوئی انوکھی یا اچنبھے والی بات نہیں۔ ہر مارشل لا کے بعد پیپلزپارٹی نے ہی اقتدار سنبھالا ہے۔اس کے ناکام ہونے کے بعدہی دوسری سیاسی قوتوں کو موقع ملا ہے،چلیں، ایک بار پھر وہی کھیل اگلی نسل کے ساتھ دیکھتے ہیں۔




Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.