جب ول سمتھ نے منشیات فروش سے 10 ہزار ڈالرز ادھار لیے

Spread the Story
  • 213
    Shares

ہالی وڈ سٹار ول سمتھ نے انکشاف کیا ہے کہ 1990 کی دہائی کے اوائل میں ٹیکس ادا کرنے میں ناکامی اور معاشی بدحالی کہ وجہ سے انہوں نے ایک منشیات فروش سے 10 ہزار ڈالرز ادھار لیے تھے۔

جمعرات کو لندن کے ساوائے تھیٹر میں اپنی سوانح عمری ’وِل‘ کی تشہیر کے دوران سمتھ نے ایک شو میں اداکار ادریس ایلبا سے گفتگو کے دوران اپنے مشہور ہونے کے بعد اپنے مالی مسائل کے بارے میں بات کی۔

دی انسائیڈر کی ایک رپورٹ کے مطابق سمتھ نے شو میں بتایا کہ انہیں معلوم نہیں کہ حکومت برطانیہ ٹیکس کے معاملات میں کیا رویہ اپناتی ہے لیکن امریکی حکومتیں ٹیکس کے امور کو انتہائی سنجیدہ لیتی ہیں۔

میٹرو کے ذریعے حاصل کی گئی ایک ویڈیو میں سمتھ مزید کہتے ہیں: ’تو انکل سیم کو اپنے پیسے چاہیے تھے… میں ٹیکس دینا بھولا نہیں تھا، بس میں نے صرف ادا نہیں کیا تھا۔‘

انہوں نے کہا کہ ’مجھے سب کچھ بیچنا پڑا۔ میں جانتا تھا کہ میری نئی زندگی، جو بھی ہونے والی ہے، وہ لاس اینجلس میں ہونے والی ہے۔‘

سمتھ نے ہسنتے ہوئے اپنی بات کو آگے بڑھایا ’لہٰذا میں نے اپنے ایک دوست سے، جو پڑوس میں ہی منشیات بیچتا تھا، اس سے 10 ہزار ڈالرز ادھار لیے۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ول سمتھ نے خود کو تقریباً دیوالیہ ہونے کا اعلان کر دیا تھا لیکن پھر وہ لاس اینجلس چلے گئے جہاں انہیں مشہور زمانہ ’دی فریش پرنس آف بیل-ایئر‘ میں مرکزی کردار ملا۔

’ول اسمتھ: اے بائیوگرافی‘ کے مطابق امریکہ کے محکمہ ٹیکس آئی آر ایس نے شو کے پہلے تین سیزن میں ان کی تنخواہ کا 70 فیصد حصہ بطور ٹیکس وصول کیا۔

ہالی وڈ سٹار کی بائیوگرافی نو نومبر کو ریلیز ہوئی تھی۔





Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.