ابھی کچھ اچھے پولیس آفیسر بھی ہیں

Spread the Story

کہیے ۔ کیسی گزر رہی ہے۔ اتوار بھی کپکپاتا اور ٹھٹھرتا ہوا۔

ننھے ننھے لاڈلے رنگا رنگ ٹوپیوں، جرسیوں میں کتنے پیارے لگتے ہیں۔ جب وہ آپ سے لپٹ کر محبت کا اظہار کرتے ہیں تو سرد سے سرد موسم کو شکست ہو جاتی ہے۔ ویسے تو کراچی میں بھی ٹھیک ٹھاک سردی ہے مگر ہمیں اب اسلام آباد اور پشاور جانا ہے۔ دیکھیں کراچی کے تن آسانوں سے وہاں کا جاڑا کیسا سلوک کرتا ہے۔ اب تو اپنی شہرت ہی بیٹوں بیٹیوں، پوتوں پوتیوں، نواسوں نواسیوں سے اتوار کو ملوانے والے کی ہو گئی ہے۔ ڈر لگتا ہے کہیں لوگ ’’بابا اتوار والا‘‘ نہ کہنا شروع کر دیں۔ مت پوچھئے کتنی خوشی ہوتی ہے جب کسی دوست کے بچے کہتے ہیں ’’انکل۔ شکریہ۔ آپ کے لکھنے سے ہمارے پاپا اتوار کو دوپہر ہمارے ساتھ گزارنے لگ گئے ہیں‘‘۔ بہت سے احباب نے برملا اعتراف کیا ہے کہ اتوار کی اپنی اولادوں کے ساتھ نشستیں تو آبِ حیات بن رہی ہیں، ان میں کیلشیم بھی ہے، فولاد بھی۔

یہ تو صدیوں سے لکھا اور کہا جا رہا ہے کہ آپ کی اصل طاقت آپ کا گھر ہے۔ یہ آپ کا قَلعہ ہے۔ یہاں آپ، آپ کی اولادیں اپنے آپ کو محفوظ خیال کرتی ہیں۔ کسی بھی مملکت کی بنیادی اکائی یہ گھروندا ہی ہوتا ہے۔ اس کے بعد گلی اور محلّہ۔ گھر والوں کا درماں گھر میں۔ گلی والوں کا گلی میں۔ محلّے والوں کے درد کی دوا محلّے میں۔ ہم اسلام آباد کی طرف دیکھتے ہیں، لاہور، کراچی، کوئٹہ، پشاور اپنے گھروں کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ اپنے گھر سے، اپنے آنگن سے محبت کریں گے تو شہر اور اپنی مادرِ وطن سے عشق ویسے ہی ہو جائے گا۔ اپنے محلّے کے بیماروں کی تیمارداری کریں۔ ضرورت مندوں کی حاجت پوری کریں۔ اپنی مملکت کی اس اکائی کو صحتمند اور طاقت ور بنائیں۔ آپس میں مکالمہ جاری رکھیں۔ پہلے گھر گلی کی بات، پھر دنیا جہان کی۔ ٹرمپ کی سنیں۔ ایران میں جھانکیں۔

دنیا ایک بڑے خطرے سے بچ گئی ہے۔ اللہ کا شکر ادا کریں، ورنہ ٹرمپ جیسے ایک بدمست ہاتھی کی طرح پھر رہے تھے، کچھ بھی ہو سکتا تھا۔ انسان دوسرے انسان کو ہلاک کرنے کے لیے اپنی ساری تخلیقی صلاحیتیں اور ذہنی قوت کہاں استعمال کر رہا ہے۔ پہلے اسے گھوڑوں پر سوار ہوکر زرہ بکتر پہن کر سینکڑوں ہزاروں میل خود سفر کرنا پڑتا تھا۔ اب اپنے محل میں بیٹھے ہی ٹویٹ کرتا ہے۔ ہلاکت خیز ہتھیار اپنے تباہی کے مشن پر روانہ ہو جاتے ہیں۔ انسانیت شرم سے منہ چھپا لیتی ہے۔ اپنی قوم پر فخر یقیناً اچھی بات ہے لیکن اپنے آپ کو، اپنی قوم کو دوسری تمام قوموں سے برتر سمجھنا تکبر ہے۔ اس ذہنیت کا مظاہرہ ہٹلر اعظم نے کیا تھا۔ وہ ہمیشہ کے لیے عبرت کا نشان بن کر رہ گیا ہے۔ اب یہ نیا سفید فام جنونی اسی راہ پر چل رہا ہے۔

ہمارا فرض ہے کہ بچوں کو تاریخ کے ایسے دیوانوں کے گھنائونے عزائم اور انجام سے آگاہ کریں مگر اب کے میرے بچے تو یہ سوال پوچھ رہے ہیں کہ اتنے بڑے بڑے افسر غریبوں کے لیے قائم بینظیر انکم سپورٹ فنڈ سے اپنی بیگمات کے نام پر پیسے کیوں لیتے رہے۔ کیا ان کی بیویاں لاوارث تھیں؟ بہت ہی دل دہلا دینے والی خبر۔ اب بتائیں کہ غربت کیسے ختم ہو گی۔ جب ان کے لیے مختص رقم ان کے پاس نہیں جائے گی۔ لیکن ہمارے ہاں یہی ہو رہا ہے۔ ایم این اے، ایم پی اے، سرکاری خزانے کو مال غنیمت خیال کرتے ہیں۔ بیورو کریٹ ان کے آلۂ کار بنتے ہیں اور بہتی گنگا میں ہاتھ دھوتے ہیں۔ ایسے میں جب ثناء اللہ عباسی جیسے پولیس افسروں کا ذکر ہوتا ہے، ان کی دیانت، متانت اور جرأت کا، تو زبان پر بے ساختہ آ جاتا ہے۔

ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جہاں میں

سندھ پولیس میں گزشتہ دو دہائیوں میں اے ڈی خواجہ اور ثناء اللہ عباسی کی اصول پرستی کا ہمیشہ ذکر رہا ہے۔ یہ بھی قحط الرجال کی نشانی ہے کہ کوئی سو افسروں میں سے صرف چند کا بے داغ ہونا تسلیم کیا جائے۔ دونوں سے یاد اللہ رہی ہے۔ فخر ہوتا ہے کہ یہ دریا میں رہتے ہوئے مگرمچھوں سے بیر پالتے رہے ہیں۔ ہمیشہ در بدر رہے ہیں۔ دوسرے صوبوں میں، مرکز میں، اپنے گھر سے بہت دور دور تعیناتی رہی ہے۔ گزشتہ صدی میں شعیب سڈل کی یہی شہرت رہی۔ افضل شگری، اسد جہانگیر بھی یاد آتے ہیں۔ خیبر پختونخوا والے خوش قسمت ہیں کہ انہیں ایسی بے داغ شہرت والا انسپکٹر جنرل پولیس ملا ہے۔ دیکھنا یہ ہوگا کہ زنگ آلود محکمے کی بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے والے افسران کو برداشت کر پاتے ہیں کہ نہیں۔ پھر وزیراعلیٰ، وزراء، ارکانِ اسمبلی۔ کیونکہ اصول اور میرٹ اب سکّہ رائج الوقت نہیں۔ ہماری دعائیں اور ہمدردیاں ثناء اللہ عباسی کے ساتھ ہیں۔

ایک اور اچھی خبر پڑھنے میں آئی کہ سندھ پولیس اور کراچی یونیورسٹی کے درمیان تحقیق اور سائنسی تعاون پر اشتراک کی یادداشت پر دستخط ہوئے ہیں۔ کراچی یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی کا ایک معزز مہمان کی حیثیت سے پولیس ہیڈ آفس میں خیر مقدم کیا گیا۔ ورنہ آج کل تو یہی خبریں آتی ہیں کہ نیب نے طلب کر لیا یا پولیس نے یونیورسٹی پر چھاپہ مارا۔ سندھ پولیس کے موجودہ آئی جی سید کلیم امام سے ملاقات نہیں ہے مگر شہرت اچھی ہی سنی ہے۔ اس لیے تو وہ اس طرح کی یادداشت تیار کرتے پائے گئے ہیں۔ میں تو ایک عرصے سے کہہ رہا ہوں کہ یونیورسٹیاں ہی پاکستان کو مہذب اور ترقی یافتہ ملک بنا سکتی ہیں۔ یونیورسٹیوں کو آگے آنا ہوگا۔ ملک کے دوسرے محکموں، انسپکٹر جنرلوں اور چیف سیکرٹریوں کو اپنی یونیورسٹیوں کو اس قسم کی تحقیق میں شامل کرکے ان کی صلاحیتوں اور توانائیوں سے فائدہ اٹھانا ہوگا۔ دیکھیں! اس اتوار اپنی اولادوں کو بتانے کے لیے ہمارے پاس یہ دو اچھی خبریں ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.