آئین پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگانے اور مشرف کو غدار کہنے والے صحافی کی درخواست ضمانت پر اب سماعت کب ہو گی؟

Spread the Story

لاہور(طارق محمود) رپورٹ کے مطابق حکومت پر تنقید کے الزام میں گرفتار صحافی اظہار الحق کی درخواست ضمانت پر سماعت ہوئی،عدالت نے ایف آئی اے سے 22 جنوری کو تحریری جواب طلب کر لیا۔جوڈیشل مجسٹریٹ عامر رضا بیٹو نے صحافی اظہار الحق کی درخواست پر سماعت کی ،صحافی اظہار الحق کی طرف سے میاں دائود ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے.میاں داؤد ایڈوکیٹ نے کہا کہ ایف آئی اے بے بنیاد الزام لگا کر صحافی اظہار الحق کو گرفتار کیا ہے،آئین کا آرٹیکل 16 آزادی اظہار رائے کی اجازت دیتا ہے، ایف آئی اے نے جن دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا، وہ الزامات مقدمے کا حصہ ہی نہیں ہے،درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ حکومت اور مشرف پر تنقید جرم ہے تو پهر آدها پاکستان گرفتار کیا جانا چاہیے، صحافی اظہار الحق کو صرف اس وجہ سے گرفتار کیا گیا تاکہ میڈیا میں خوف پیدا کیا جا سکے،آئین پاکستان میڈیا کی آزادی کی گارنٹی دیتا ہے، صحافی اظہار الحق کی ضمانت منظور کی جائے،واضح رہے کہ اظہارالحق کے خلاف پاکستان الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پیکا) 2016 کے سیکشن 11 اور 20 اور تعزیرات پاکستان کی دفعہ 505 کے تحت درج کیا گیا ہے۔لاہور پریس کلب کے عہدیداران نے پریس کلب کے رکن اور صحافی اظہارالحق کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔مذمتی بیان میں کہا گیا کہ ایف آئی اے کی جانب سے صحافی کی گرفتاری آزادی اظہار رائے کو سلب کرنے کے مترادف اور غیر آئینی اقدام ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.