آسڑیلیا کیخلاف ٹیسٹ سیریز،خوش فہمی کا شکار نہ ہوں

Spread the Story

اختر علی خان
پاکستان کرکٹ ٹیم نے آسڑیلیا کو آسڑیلیا کے ہوم گرائونڈ پر آخری بار 20ویں صدی میں شکست دی تھی اس کے بعد سے ہم نے آسڑیلیا کیخلاف ٹیسٹ میچ میں جیت کا منہ نہیں دیکھا،پاکستان اور آسڑیلیا کے درمیان دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا آغاز آج سے برسبین میں ہوگا جیت کے حوالے سے قومی کرکٹ ٹیم اور شائقین کرکٹ کو پرامید ضرور ہونا چاہئے مگر کسی خوش فہمی کا شکار نہ ہوں تو بہتر ہوگا،یہ بات میں ان اعداد و شمار کی بنیاد پر لکھ رہا ہوں جنہیں آپ بھی جان کر کسی حد تک میری بات سے اتفاق ضرور کریں گے، پاکستان کی ٹیم نے اب تک آسڑیلیا کیخلاف آسڑیلیا کی سرزمین پر 36ٹیسٹ میچ کھیلے ہیں اور اس میں سے 24 میں پاکستان کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے جبکہ صرف 4 ٹیسٹ میچوں میں پاکستان کی ٹیم کو جیت حاصل ہوئی۔1995ء میں پاکستان کی ٹیم نے آسڑیلیا کو آخری اس کے ہوم گرائونڈ پر شکست دی تھی جانتے ہیں اس کے بعد سے اب تک پھر کیا ہوا؟اس کے بعد سے اب تک آسڑیلیا نے اس ناکامی کے غصے میں پاکستان کو 12ٹیسٹ میچوں میں مسلسل شکست سے دوچار کیا۔اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ جب کو شخص اپنی زندگی میں اپنے مقرر کردہ اہداف حاصل نہیں کرپاتا تو پھر وہ اپنی اولاد کے ذریعے اپنے خوابوں کو تعبیر دینے کی کوشش کرتا ہے، اسی طرح مصباح الحق اپنے پلینگ کیریئر میں تو آسڑیلیا کو اس کی سرزمین پر شکست دینے میں کامیاب نہ ہوسکے لہٰذا اب ان کی کوشش ہے کہ اپنے کوچنگ کیریئر میں نوجوان ٹیم کے ذریعے اس خواب کی تعبیر حاصل کی جائے

95ء میں آسڑیلیا کیخلاف تاریخی کامیابی کے بعد سے لیکر اب تک کے درمیانی عرصے کے دوران کتنے ہی نامور کھلاڑی پاکستان کی ٹیم میں آئے اور گئے ان میں سعید انور، محمد یوسف، اعجاز احمد، وسیم اکرم، وقار یونس، انضمام الحق،مصباح الحق، شعیب اختر سرفہرست ہیں، ان تمام کھلاڑیوں نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا مگر آسڑیلیا کو اب تک اس کے ہوم گرائونڈ پر ڈھیر نہ کیا جاسکا،یہ وہ کھلاڑی ہیں جن کے نام کے ساتھ کئی کئی ریکارڈز اور کارکردگی جڑی ہوئی ہے مگر آسڑیلیا کی سرزمین سے یہ سب کے سب ناکام ہی لوٹے، اس پر جس ٹیم کا انتخاب کیا گیا ہے وہ ان کھلاڑیوں کے مقابلے میں اگر یہ کہا جائے کہ کچھ بھی نہیں تو غلط نہیں ہوگا اب اس ٹیم سے پرامید ہونا کوئی بری بات نہیں لیکن خوش فہمی کا شکار ہوجانا بہرحال بری بات ہے،پاکستان کی ٹیسٹ ٹیم نے رواں سال کا بیشتر حصہ بغیر کوئی ٹیسٹ کھیلے ہی گزارا ہے اس دوران ٹیم یا ٹی ٹوئنٹی میں ایکشن دکھاتی رہی یا ون ڈے میچوں میں زور لگاتی رہی اس کے مزاج میں مختصر کرکٹ کا داخل ہو جانا ایک فطری عمل ہے اور یہی بات آسڑیلیا میں ٹیسٹ سیریز کے دوران ہمارے خلاف جائیگی جس کا توڑ کرنا بہت ضروری تھا۔پاکستان کی نئی ٹی ٹونٹی ٹیم کا پہلا پراجیکٹ تو بری طرح ناکام رہا۔ اب موقع ٹیسٹ ٹیم کے ہاتھ آیا ہے کہ وہ اس نئے سیٹ اپ کی افادیت کو ثابت کر سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.