بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح کے جمہوریت بارے ارشادات

Spread the Story

قائد اعظم کی قیادت میں پاکستان ایک پرامن جمہوری جدوجہد کے نتیجے میں وجود میں آیا۔ یہ جمہوریت ہی تھی جسے قائد اعظم پاکستان کے لئے لازم قرار دیتے تھے۔ آئیے قائد اعظم کے چند ارشادات کی مدد سے جاننے کی کوشش کریں کہ ان کی نظر میں ایک جمہوری پاکستان کیسا ہونا چاہیے اور ادھر عوام اور حکومت کا رویہ کیا ہونا چاہیے۔

امریکہ کے عوام سے خطاب کرتے ہوئے فروری 1948 میں قائد اعظم نے کہا کہ ”مجھے یقین ہے کہ پاکستان کا آئین جمہوری ہو گا اور اسلام کے اہم اصولوں کو اپنے اندر سمو لے گا۔ یہ اصول آج بھی اسی طرح قابل عمل ہیں جیسے تیرہ سو برس پہلے تھے۔ اسلام نے ہمیں جمہوریت سکھائی ہے۔ اس نے ہمیں انسانی برابری، انصاف اور ہر ایک کے ساتھ برابری کا درس دیا ہے۔ بہرحال کسی بھی صورت میں پاکستان ایک ایسی مذہبی ریاست نہیں ہو گا جس پر ملا ایک خدائی مشن کے ساتھ حکومت کریں۔ یہاں بہت سے غیر مسلم ہیں، ہندو، مسیحی اور پارسی لیکن وہ سب پاکستانی ہیں۔ ان کو دوسرے شہریوں کی طرح وہی سب حقوق اور استحقاق حاصل ہوں گے اور پاکستان کے معاملات میں اپنا برحق کردار ادا کریں گے۔ “

انیس فروری 1948 کے دن آسٹریلیا کے عوام سے نشریاتی خطاب میں بھی اسی بات کا اعادہ کیا۔ ”ہم میں سے ایک بھاری اکثریت مسلمان ہے۔ ہم اپنے نبیؐ کی تعلیمات کی پیروی کرتے ہیں۔ ۔ ۔ لیکن کوئی غلط فہمی دل میں مت رکھیں۔ پاکستان ایک تھیوکریسی (مذہبی ریاست) یا ایسا کچھ دوسرا نہیں ہے۔ اسلام ہم سے یہ مطالبہ کرتا ہے کہ ہم دوسرے مذاہب کے بارے میں برداشت کا مظاہرہ کریں اور ہم کسی بھی مذہب سے تعلق رکھنے والے ان افراد سے قریبی تعلق قائم کرنے کے متمنی ہیں جو خود اس بات کے لئے تیار ہیں کہ وہ پاکستان کے سچے اور وفادار شہری کی حیثیت سے اپنا کردار ادا کریں“۔

لندن میں 14 دسمبر 1946 کو فرمایا ”جمہوریت مسلمانوں کے خون میں شامل ہے جو کل انسانیت کی برابری پر یقین رکھتے ہیں۔ ۔ ۔ اور برادری، برابری اور آزادی کے حق کو مانتے ہیں۔ “

حکومتی ذمہ داریوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے 11 اگست 1947 کو آئین ساز اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا ”بلاشبہ اس بات پر آپ مجھ سے اختلاف نہیں کریں گے کہ کسی حکومت کی پہلی ذمہ داری امن عامہ کا قیام ہے تاکہ زندگی، جائیداد اور اس کے شہریوں کے مذہبی عقائد کی ریاست پوری طرح حفاظت کرے۔ ۔ ۔ اگر ہم پاکستان کی اس عظیم ریاست کو خوش اور خوشحال بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں تن دہی اور یک سوئی سے عوام، خاص طور پر غریبوں کی فلاح پر توجہ مرکوز کرنی ہو گی“۔

آزادی اظہار کے ضمن میں 21 مارچ 1948 کو ڈھاکہ میں بات کرتے ہوئے فرمایا ”حکومت صرف ایک ہی ہدف کو اپنا مقصد بنا سکتی ہے۔ ۔ ۔ کس طرح عوام کی خدمت کی جائے، کس طرح ان کی فلاح اور بھلائی کے لئے طریقے اور ذرائع پیدا کیے جائیں۔ کسی حکومت کا اور کیا دوسرا ہدف ہو سکتا ہے؟ “

جمہوریت کا ایک اہم ستون پریس ہوتا ہے جو عوام میں آگاہی پھیلاتا ہے اور حکمرانوں کے اچھے اور برے کاموں پر ان کو عوام کی عدالت میں کھڑا کرتا ہے۔ صحافیوں کے تحفظ کے بارے میں بھی قائد اعظم نے اہم باتیں بتائیں۔ 19 ستمبر 1918 کو امپریل لیجسلیٹو کونسل میں تقریر کرتے ہوئے انہوں نے کہا ”میں کہتا ہوں کہ معصوموں کا تحفظ کرو، ان صحافیوں کا تحفظ کرو جو اپنا فرض ادا کر رہے ہیں اور حکومت پر آزادانہ اور دیانتدارانہ تنقید کر کے عوام اور حکومت دونوں کی خدمت کر رہے ہیں، جو کہ کسی بھی حکومت کے لئے سیکھنے باعث ہوتا ہے“۔

اسی موضوع پر انہوں نے تیس برس بعد 18 اپریل 1948 کے دن پشاور کے ایڈورڈز کالج میں بات کی۔ ”میں یہ چاہتا ہوں کہ ایک آزاد اور خود مختار ریاست کے شہری کے طور پر آپ چوکنے رہیں۔ جب حکومت داد کی مستحق ہو تو اسے داد دیں۔ جب وہ تنقید کی مستحق ہو تو اس پر بے خوف ہو کر تنقید کریں۔ لیکن ہر وقت جارحانہ اور تباہ کن تنقید کر کے وزارت یا اہلکاروں کو روند ڈالنے پر خوش نہ ہوتے رہیں۔ “

بائیس مئی 1948 کے دن ڈھاکہ میں ریڈیو کے ذریعے قوم سے خطاب کرتے ہوئے قائد اعظم نے عوام کے حکومت بنانے اور ہٹانے کے حق کے بارے میں راہنمائی کی۔ ”غیر ملکی راج کے خاتمے کے بعد اب عوام اپنے مقدر کا فیصلہ کرنے کی طاقت رکھتے ہیں۔ ان کو پوری آزادی حاصل ہے کہ وہ آئینی طریقے سے کسی بھِی حکومت کو منتخب کریں۔ لیکن اس کا ہرگز بھی یہ مطلب نہیں ہے کہ کوئی گروہ غیر قانونی طریقے استعمال کر کے یہ کوشش کرے کہ وہ منتخب حکومت پر اپنی مرضی تھوپ دے۔ حکومت اور اس کی پالیسی منتخب نمائندوں کے ووٹ سے بدلی جا سکتی ہے“۔

اسی موضوع پر 21 مارچ 1948 کو ڈھاکہ میں ہی انہوں نے فرمایا ”یہ آپ کے اپنے ہاتھوں میں ہے کہ کسی حکومت کو اقتدار میں لائیں یا اسے اتار دیں لیکن آپ کو یہ بلوے کے ذریعے نہیں کرنا چاہیے۔ آپ کے پاس طاقت ہے، آپ کو اسے استعمال کرنے کا فن سیکھنا ہو گا۔ آپ کو یہ مشینری چلانے اور سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اگر آپ ایک حکومت سے بہت زیادہ ناخوش ہیں تو آئینی طور پر یہ آپ کے اپنے ہاتھ میں ہے کہ ایک حکومت کو ہٹائیں اور دوسری کو لے آئیں“۔

آپ نے نوٹ کیا ہو گا کہ قائد اعظم ایک ایسی جمہوری ریاست میں ہی پاکستان کی فلاح دیکھتے تھے جس پر شدت پسند ملائیت کا غلبہ نہ ہو، جہاں حکومت اپنی توجہ شہریوں کی فلاح پر مرکوز کرے، جہاں تمام شہری اپنے رنگ نسل اور عقیدے سے بالاتر ہو کر ایک جیسے حقوق رکھتے ہوں، جہاں جمہوری طریقے سے حکومت کو منتخب کیا جائے اور اسے ہٹانے یا کمزور کرنے کے لئے بلوے اور فسادات کی راہ اختیار نہ کی جائے بلکہ آئینی طریقے اسے عوام کے منتخب نمائندوں کے ذریعے ہی ہٹایا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.