بہت زیادہ ٹی وی دیکھنے کے یہ نقصانات بھی دیکھ لیں

Spread the Story

اسلام آباد(جی سی این رپورٹ)ہم چُھٹی کے دن یا اپنے فارغ وقت میں ٹی وی یا ویڈیو اسٹریمنگ سائٹ نیٹ فلکس پر اپنے پسندیدہ شو یا فلمیں دیکھ کر گھنٹوں گزار دیتے ہیں اور ہمیں فارغ وقت میں کرنے کے لیے سب سے اچھا کام یہی لگتا ہے۔ماہرین طب کے مطابق گھنٹوں ٹی وی یا لیپ ٹاپ کے آگے گزارنے کی عادت پر قابو نہیں پایا جاتا تو یہ آگے جا کر اس چیز کی لت میں مبتلا کر دیتی ہے اور اس کی وجہ سے ہماری صحت پر بے شمار منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔حال ہی میں ویڈیو اسٹریمنگ سائٹ نیٹ فلکس کے حوالے سے ایک سروے کیا گیا تھا جس کے مطابق 61 فیصد صارفین روزانہ کی بنیاد پر فارغ وقت میں نیٹ فلکس کا استعمال کرتے ہیں اور ان کو یہ معلوم بھی نہیں ہوتا کہ ان کی یہ عادت کب ایک لت میں تبدیل ہوجاتی ہے اور یہ کسی نشے کی عادت کی طرح ہی خطرناک بھی ہوتی ہے۔آج ہم آپ کو فارغ وقت میں ٹی وی یا لیپ ٹاپ پر فلمیں اور شوز دیکھنے کی عادت کے منفی اثرات کے بارے میں ہی بتانے والے ہیں۔

موٹاپا

ضرورت سے زیادہ لیپ ٹاپ اور ٹی وی کے سامنے وقت گزارنے کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ انسان موٹاپے کا شکار ہوجاتا ہے، ہم جب ٹی وی کے آگے بیٹھ کر پسندیدہ شو دیکھ رہے ہوتے ہیں تو ساتھ میں ہمیں کوئی نا کوئی چیز کھانے کا بھی دل کرتا ہے اور اس دوران ہم اپنی بھوک سے زیادہ ہی کھالیتے ہیں جس کی وجہ سے موٹاپے کے خطرات میں اضافہ ہوجاتا ہے۔

جسمانی سرگرمیاں متاثر

جب ہم گھنٹوں ٹی وی کے آگے بیٹھے رہتے ہیں تو ہم اس عادت میں اتنا مشغول ہوجاتے ہیں کہ ہماری جسمانی سرگرمیاں بے حد متاثر ہوجاتی ہیں کیونکہ ہم جسمانی طور پر کوئی کام نہیں کر رہے ہوتے۔

خراب پوسچر

اگر ہم ایک ہی جگہ پر گھنٹوں بیٹھے رہیں گے تو اس کی وجہ سے سب سے زیادہ ہمارا پوسچر متاثر ہوتا ہے، جس کی وجہ سے ہمیں کمر اور گردن سے متعلق مسائل بھی ہوجاتے ہیں۔

بینائی متاثر

ٹی وی اور لیپ ٹاپ سے نکلنے والی نیلی روشنی کی وجہ سے ہماری بینائی سب سے زیادہ متاثر ہوتی ہے کیونکہ یہ نیلی روشنی آنکھوں کے پٹھوں (مسلز) کے لیے بے حد نقصان دہ ہوتی ہیں۔

نیند سے محرومی

جب ہم نیٹ فلکس پر اپنا کوئی پسندیدہ شو دیکھنے کے لیے بیٹھتے ہیں تو ہمارا ایک کے بعد ایک اور قسط دیکھنے کا دل کرتا ہے اور رات کب گزر جائے ہمیں اس بات کا علم نہیں ہوتا، اس عادت کی وجہ سے نیند بے حد متاثر ہوتی ہے جس کی وجہ سے بے شمار خطرناک بیماریاں جنم لے سکتی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.