جب حضرت الیسعؑ ضعیف ہو گئے، تو خواہش ظاہر کی کہ’’ کاش! اپنے مرنے سے پہلے کسی نیک اور صالح شخص کو اپنا خلیفہ مقرّر کر دیتا

Spread the Story

ابنِ جریرؒ نے مشہور مفسرّ، حضرت مجاہدؒ سے ایک قصّہ نقل کیا ہے اور ابنِ ابی حاتم نے حضرت عبداللہ بن عبّاسؓ اور حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ سے بھی اُسی سے ملتے جُلتے بعض آثار نقل کیے ہیں، جن کی سند منقطع ہے۔ یعنی ان دونوں بزرگوں اور ان سے روایت کرنے والوں کے درمیان کچھ نام نہیں ہیں۔ ایسی سند کو اصطلاح میں’’ منقطع ‘‘کہا جاتا ہے۔بہرکیف، حضرت مجاہدؒ نے لکھا ہے کہ’’جب حضرت الیسعؑ ضعیف ہو گئے، تو خواہش ظاہر کی کہ’’ کاش! اپنے مرنے سے پہلے کسی نیک اور صالح شخص کو اپنا خلیفہ مقرّر کر دیتا تاکہ وہ میرے بعد دین کے جملہ معاملات بہ خُوبی پورے کر پاتا اور مَیں اپنی موجودگی میں اُس کی تربیت بھی کر دیتا تاکہ مرنے سے پہلے بنی اسرائیل کی فکر سے آزاد ہو جاتا۔‘‘ایک دن آپؑ نے بنی اسرائیل کو جمع کیا اور فرمایا’’ اے لوگو! تم دیکھتے ہو کہ مَیں بہت بوڑھا ہو چُکا ہوں۔ مَیں چاہتا ہوں کہ اپنی حیات ہی میں تم میں سے کسی صالح شخص کو اپنا خلیفہ نام زَد کر دوں، لیکن مَیں اُسے ہی خلیفہ بنائوں گا، جو تین شرائط پر پورا اُترتا ہو۔ پہلی شرط تو یہ کہ وہ دن میں روزہ رکھتا ہو۔دوسری یہ کہ شب کو اللہ کی یاد میں مشغول رہتا ہو اور تیسری یہ کہ اُسے غصّہ نہ آتا ہو۔‘‘ اہلِ مجلس پر سکوت طاری تھا کہ اچانک دُور کونے میں بیٹھا ایک عام سا آدمی کھڑا ہوا اور بولا’’ مَیں آپؑ کی تینوں شرائط پر پورا اُتروں گا۔‘‘حضرت الیسعؑ نے اپنی شرائط دُہراتے ہوئے پوچھا’’ کیا تم تینوں پر پورا اُترتے ہو؟‘‘ اُس نے جواب دیا’’ جی ہاں۔‘‘ آپؑ نے کوئی جواب نہیں دیا اور مجلس دوسرے روز تک کے لیے برخاست کر دی۔ اگلے دن حضرت الیسعؑ نے پھر اپنا سوال دُہرایا۔ مجمع خاموش تھا، وہی شخص کھڑا ہوا اور بولا’’ مَیں آپؑ کی شرائط پر قائم رہنے کا عہد کرتا ہوں۔‘‘ لہٰذا حضرت الیسعؑ نے اُنہیں اپنا خلیفہ بنا لیا اور وہ شخص، حضرت ذوالکفلؑ تھے۔
ابلیس مجلس کے ایک کونے پر بیٹھا یہ سب دیکھ رہا تھا۔ اُس سے برداشت نہ ہو سکا، چناں چہ اپنے کارندوں کو حکم دیا’’ ذوالکفلؑ کو راہِ راست سے ہٹانے کی بھرپور کوشش کرو‘‘، لیکن جلد ہی وہ سب ناکام ہو گئے، تو پھر ابلیس نے یہ کام خود اپنے ذمّے لے لیا۔حضرت ذوالکفلؑ کا دوپہر کو تھوڑی دیر قیلولے کا دستور تھا۔ ایک دوپہر ابلیس بوڑھے فقیر کے بھیس میں نہایت پراگندہ حالت میں حضرت ذوالکفلؑ کے مکان پر جا پہنچا۔ ابھی آپؑ اپنے بستر پر آرام کی غرض سے لیٹے ہی تھے کہ ابلیس نے دروازہ کھٹکھٹایا۔آپؑ نے پوچھا’’ کون ہے؟‘‘ ابلیس بولا ’’مَیں ایک مظلوم، ناتواں بوڑھا ہوں اور آپؑ کے پاس انصاف کے لیے حاضر ہوا ہوں۔‘‘ آپؑ نے دروازہ کھولا، تو ایک کم زور اور ضعیف شخص کو کھڑا پایا۔ آپؑ اُس سے بات بھی نہ کر پائے تھے کہ شیطان نے اپنی قوم کے ظلم و ستم کی ایک درد بھری جھوٹی داستان سُنانی شروع کر دی اور اُسے اتنا طول دیا کہ حضرت ذوالکفلؑ کے آرام کا وقت نکل گیا اور شام ہونے لگی۔ آپؑ نے اُسے تسلّی دیتے ہوئے فرمایا’’ اچھا ابھی جائو اور شام کو مجلسِ عدالت میں آنا، تمہاری داد رَسی کی جائے گی‘‘، شیطان چلا گیا۔شام کو مجلسِ عدالت میں آپؑ اُس بوڑھے کا انتظار کرتے رہے، لیکن وہ نہ آیا۔ صبح کی مجلس میں پھر آپؑ کی نظریں بوڑھے کو تلاش کرتی رہیں، لیکن آپؑ دوپہر کو جیسے ہی بستر پر محوِ آرام ہوئے، دروازے پر دستک ہوئی۔ دروازہ کھولا، تو پھر بوڑھے کے رُوپ میں شیطان موجود تھا۔ آپؑ نے نہایت نرمی سے کہا’’ تمھیں مجلسِ عدالت میں بلایا تھا، مگر نہیں آئے۔‘‘بوڑھے نے بڑی لاچارگی سے کہا’’ اے خلیفہ! میری قوم بڑی خبیث ہے، اُنہیں جب پتا چلا کہ آپؑ مجلس میں فیصلہ کریں گے، تو ڈر گئے اور مجھ سے میرا حق دینے کا وعدہ کر لیا، لیکن ابھی جب مَیں اُن کے پاس گیا، تو وہ وعدے سے مُکر گئے۔‘‘ حضرت ذوالکفلؑ نے کہا’’ اچھا! ٹھیک ہے، آج شام آ جانا تاکہ تمہارا حق تمہیں دِلوایا جا سکے۔‘‘اُس دوپہر پھر بوڑھے نے آپؑ کو باتوں میں لگا کر قیلولہ نہ کرنے دیا۔ شام کو آپؑ اُس کے منتظر رہے، لیکن وہ نہ آیا۔ دو دن تک آرام نہ کرنے کی وجہ سے آپؑ پر نیند کا شدید غلبہ تھا۔ چناں چہ تیسرے دن دوپہر کو نیند نے آپؑ کو عاجز کر دیا، تو گھر والوں سے کہا’’ آج قیلولے کے وقت دروازہ ہرگز نہ کھولیں۔‘‘ تاہم، آپؑ بستر پر دراز ہی ہوئے تھے کہ وہ بوڑھا پھر آموجود ہوا اور دستک دی۔اہلِ خانہ نے کہا’’ خلیفہ کا حکم ہے، دروازہ نہیں کُھلے گا۔‘‘ بوڑھے نے کہا’’ مَیں دو دن سے اپنے معاملے کے لیے آ رہا ہوں، مجھے خلیفہ نے آج دوپہر خود بلایا ہے۔‘‘ لیکن گھر والوں نے دروازہ نہیں کھولا۔ بوڑھے نے کچھ دیر تو توقف کیا، پھر اپنے شیطانی عمل سے گھر کے اندر داخل ہو گیا اور کمرے کے دروازے پر دستک دینے لگا۔ آپؑ نے جب دروازہ کھولا، تو سامنے بوڑھے کو کھڑے دیکھا۔اس پر آپؑ نے گھر والوں سے کہا’’ مَیں نے تو منع کیا تھا کہ آج دروازہ نہ کھولنا۔‘‘ گھر والوں نے جواب دیا’’ اللہ کی قسم! ہم نے دروازہ نہیں کھولا۔ آپؑ دیکھ سکتے ہیں کہ سب دروازے اور کھڑکیاں بند ہیں۔‘‘ آپؑ نے نظر دوڑائی، تو حیران رہ گئے۔ واقعی دروازے تو سب بند تھے۔ اب جو آپؑ نے غور سے بوڑھے کو دیکھا، تو حقیقتِ حال عیاں ہو گئی۔ آپؑ نے اُسے مخاطب کر کے فرمایا’’ اے اللہ کے دشمن! کیا تو ابلیس لعین ہے؟‘‘ وہ بولا’’ ہاں! مَیں ہی ابلیس ہوں۔آپؑ نے پہلے میرے چیلوں کو عاجز کیا، وہ آپ ؑکو قابو نہ کر سکے اور اب مجھے بھی تھکا دیا۔ مَیں چاہتا تھا کہ آپؑ کو غصّہ دِلا کر غضب ناک کر دوں اور ایفائے عہد میں ناکام بنا دوں، مگر افسوس کہ مَیں خود ہی ناکام رہا‘‘(ابنِ کثیرؒ)۔خلاصۂ کلام یہ ہے کہ حضرت ذوالکفلؑ، حضرت الیسعؑ نبی کے خلیفہ اور اللہ تعالیٰ کے ولی تھے۔ ہو سکتا ہے کہ اُن کے خاص محبوب اعمال کی بناء پر اُن کا ذکر انبیائے کرامؑ کے ساتھ کیا گیا ہو اور اس میں بھی کوئی بعید نہیں کہ شروع میں وہ حضرت الیسعؑ کے خلیفہ ہی ہوں، پھر حق تعالیٰ نے اُنھیں منصبِ نبوّت عطا فرما دیا ہو‘‘ (معارف القرآن۔ ج۔6، ص۔220)۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.