حضرت مریم حضرت عیسیٰ ؑ کو لیکر مصرکیوں چلی گئی تھیں؟

Spread the Story

حضرت ابنِ عباسؓ سے مروی ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ ابن مریمؑ گود میں بات چیت کے بعد کلام کرنے سے رُک گئے تھے، پھر جب لڑکپن کو چُھونے لگے، تو اللہ تعالیٰ نے اُن کی زبان پر حکمت اور دانائی کی باتیں جاری کر دیں۔ جب آپؑ سات سال کے ہوئے، تو حضرت مریمؑ نے آپؑ کو معلّم کے پاس درس گاہ میں بھیجنا شروع کر دیا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السّلام بچپن ہی میں اللہ کی طرف سے الہام کردہ عجائبات کا نظارہ کرتے تھے۔
یہ بات یہودیوں میں پھیل گئی، تو اُنہوں نے آپؑ کے خلاف منصوبے بنانے شروع کر دیئے، حالاں کہ آپؑ کے خاندان کے لوگ آپؑ کی اور حضرت مریمؑ کی بہت عزّت کرتے تھے۔ یہود نے آپؑ اور آپؑ کی والدہ کے متعلق طرح طرح کے اعتراضات شروع کر دیئے۔
یہ وہ وقت تھا کہ جب حضرت زکریا علیہ السّلام بنی اسرائیل کے پیغمبر تھے، لیکن یہود اپنی سابقہ روایات اور عاداتِ خبیثہ کے باعث حضرت زکریا علیہ السّلام کی نافرمانی اور اُن کی تکذیب کرتے تھے۔ اُن لوگوں نے مختلف گروہوں میں تقسیم ہو کر مشرکانہ طور طریقے اختیار کر لیے تھے، یہاں تک کہ اپنی خواہشات کے مطابق تورات میں بھی بہت زیادہ ردّوبدل کر لیا تھا۔
اُن کے عقائد و اعمال دن بدن بد سے بدتر ہوتے چلے جا رہے تھے۔ جب بیتُ المقدِس کے حالات خراب ہونے لگے، تو حضرت مریمؑ آپؑ کو لے کر اپنے عزیزوں کے پاس مِصر چلی گئیں۔ تیرہ سال بعد اللہ تعالیٰ کے حکم سے مِصر سے واپس ہوئیں۔ پھر اللہ نے آپؑ کو انجیل عطا فرمائی اور تورات کی تعلیم دی۔ اس کے علاوہ، مُردوں کو زندہ کرنا، کوڑھیوں کو صحیح کرنا اور دُوسرے معجزات سے نوازا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.