دعا منگی کے اغوا کے وقت ریسٹورنٹ میں اس کا کونسا رشتہ دار موجود تھا؟

Spread the Story

کراچی (طارق محمود) کراچی کے علاقے ڈیفینس سے قانون کی طالب علم دعا منگی کے اغوا کے سلسلے میں پولیس نے ان کے گروپ کے لڑکے لڑکیوں سمیت 22 افراد کے بیانات ریکارڈ کر لیے ہیں۔تفتیش کے دوران مغوی کی بہن کی بھی موقع پر موجودگی کا انکشاف ہوا۔پولیس کے مطابق ملنے والی اہم معلومات سے تفتیش تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے۔پولیس کی تفتیشی ٹیم نے بڑا بخاری میں واقع ریسٹورنٹ “ماسٹر چائے” کو اس اہم کیس کے لیے مرکز تفتیش بنا لیا ہے۔پولیس نے ماسٹر چائے کے تمام ویٹرز ،سیکورٹی گارڈ اور دیگر چوکیداروں کے بیانات بھی ریکارڈ کر لیے ہیں۔اس سلسلے میں ایک اہم انکشاف سامنے آیا ہے کہ واردات کے وقت دعا کی بڑی بہن بھی اسی ریسٹورنٹ پر اپنے دوست کے ساتھ موجود تھی۔بہن کے مطابق دعا اور حارث بات چیت کرنے کے لیے اٹھ کر ٹہلنے لگے کہ گولی چلنے کی آواز آئی۔بیاناتات سے یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ مغوی دعا منگی کئی ماہ سے وقفے وقفے دوستوں کے ساتھ ماسٹر چائے پر آکر بیٹھتی تھی تاہم گذشتہ چار پانچ دن سے وہ مسلسل طویل دورانیہ کے لیے بیٹھک کر رہی تھی۔جب کہ دعا منگی کے اغوا میں ان کے سابق منگیتر کے ملوث ہونے کا بھی انکشاف کیا جا رہا ہے۔واضح رہے کہ اس سے قبل ویٹر کا بیان بھی سامنے آیا تھا۔ تفتیشی افسران نے چائے خانہ کے ویٹر سے بھی انکوائری کی تھی، ویٹر نے پولیس کو بتایا کہ لڑکا اور لڑکی گزشتہ چار ماہ سے یہاں آرہے تھے، حارث اور دعا کے درمیان کبھی منفی سرگرمیاں محسوس نہیں ہوئیں۔ ان کے ساتھ اکثرایک خاتون بھی آتی تھیں۔ حارث اور لڑکی دعا یہاں آتے تھے چائے پیتے ،کبھی کھانا کھا کر چلے جاتے تھے، جب بھی آتے دوتین گھنٹے بیٹھتے تھے ،ہم نے ان میں کبھی کوئی بری بات نہیں دیکھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.