سالگرہ کے کیک کا آغاز کب اور کہاں سے ہوا؟

Spread the Story

اسلام آباد(جی سی این رپورٹ)جب سے ہم پیدا ہوئے ہیں، سالگرہ مناتے وقت اگر کیک نہ کاٹیں تو ہم اسے سالگرہ تصور ہی نہیں کرتے، ہم سب جب بھی اپنی سالگرہ مناتے ہیں تو خوشی میں کیک کاٹتے ہیں اور ہمیں کیک کاٹ کے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہم نے اپنی سالگرہ اچھے طریقے سے منا لی ہے۔مگر کیا ہم میں سے کبھی کسی نے سوچا ہے کہ سالگرہ منانے کے لیے ہم کیک کاٹنے کا ہی انتخاب کیوں کرتے ہیں؟ اُس کیک پر موم بتی کو کیوں بجھاتے ہیں؟ اس رواج کا آغاز کب اور کہاں سے ہوا؟آئیے ہم آپ کو بتائیں کہ ہم سالگرہ منانے کہ لیے کیک ہی کیوں کاٹتے ہیں اور اسے کاٹتے وقت موم بتی کیوں بجھاتے ہیں۔تاریخ سے ہمیں یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ سب سے پہلے سالگرہ کا کیک جرمنی میں بنایا گیا تھا اور جرمن لوگ اپنے بچوں کی سالگرہ کو کیک کے ساتھ مناتے تھے، اس جشن کو ’کنڈر فیسٹ‘ کہا جاتا تھا۔

ابتداء میں کیک موٹے، روٹی نما چیز کی طرح ہوتے تھے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس میں میٹھا استعمال کیا جانے لگا اور اس قسم کے کیک کو  اُس زمانے میں ’جبرٹسٹاگورٹن‘ کہا جاتا تھا۔اس کے بعد 17 ویں صدی میں سالگرہ کے کیک کو آئسنگ، تہوں اور سجاوٹ جیسے پھولوں کی طرح مزید وسعت دی گئی تاہم اعلیٰ قسم کے اجزاء کی وجہ سے اس قسم کے کیک صرف دولت مند اور اعلیٰ طبقے کے لوگ ہی خریدا کرتے تھے کیوں کہ یہ بے حد مہنگے ہوتے تھے۔

18ویں صدی میں کیک بنانے کا عمل مزید ترقی کر گیا کیونکہ کھانے اور بیکنگ کے برتن آسانی سے لوگوں کو بازاروں میں مل جاتے تھے، اسی وجہ سے کیک بنانے کا سامان سستا ہونے لگا اور ساتھ ہی کیک کی قیمت میں بھی نمایاں کمی واقع ہوئی اور کیک بنانے کی تعداد میں بھی کافی حد تک اضافہ ہوا۔

کیک پر موم بتی لگانے کی روایت

وقت کے ساتھ سالگرہ کو منانے کے طریقے میں جدّت آتی گئی اور کیک کاٹنے کی روایت کے ساتھ ساتھ اس میں ایک اور اضافہ بھی کیا گیا جس میں سالگرہ کے وقت کیک پر موم بتیاں لگائی جانے لگیں، اور کیک کو کاٹتے وقت ان موم بتیوں کو پھونک مار کر بُجھایا جانے لگا۔بعد ازاں کیک پر موم بتیاں جلانا باقاعدہ طور پر رسم کی شکل اختیار کر چکی ہے جسے تقریباً دنیا کے ہر ملک میں اپنایا جاتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.