سمارٹ فون کی عادت سے کیسے چھٹکارہ ممکن

Spread the Story

اسلام آباد)(جی سی این رپورٹ)نوجوان، بچے یا بڑے ہی کیوں نہ ہوں آج کل ہر کوئی اسمارٹ فونز کا استعمال کرنے کا عادی ہے اور یہ عادت انسان کی زندگی کو بُری طرح اثر انداز کرتی ہے۔اسمارٹ فونز کا ضرورت سے زیادہ استعمال کرنا ہمیں آنکھوں اور سر درد کے مسائل سمیت مختلف بیماریوں کی طرف لے جاتا ہے۔اس عادت میں مبتلا افراد کے لیے سب سے زیادہ ضروری یہ ہے کہ وہ موبائل فون استعمال کرنے کے لیے کچھ وقت یعنی گھنٹے متعین کر لیں تاکہ وہ اس حد میں رہ کر ہی موبائل فون استعمال کریں۔آج ہم آپ کو موبائل فون کی عادت سے چھٹکارا حاصل کرنے کے حوالے سے چند تجاویز بتانے والے ہیں جن پر عمل کر کے آپ کافی حد تک اس عادت پر قابو پانے میں کامیاب ہوجائیں گے۔

موبائل فون استعمال کرنے کا وقت متعین کرلیں

موبائل فون استعمال کرنے کی عادت پر قابو پانے کے لیے سب سے زیادہ اہم چیز یہی ہے کہ آپ گھر میں موجود بچوں یا نوجوانوں کے موبائل استعمال کرنے یا لیپ ٹاپ استعمال کرنے کا ایک وقت متعین کرلیں کہ دن بھر میں اتنے گھنٹے موبائل فون ہی استعمال کرنا ہے۔

وقت متعین کرنے کے بعد ضروری ہے کہ والدین بچوں پر نظر رکھیں اور ساتھ ہی خود بھی موبائل فونز استعمال کرنے کی ایک حد مقرر کر لیں، جب گھر کے تمام لوگ ایک ہی اصول پر چلیں گے تو ایسے اس عادت پر قابو پانا آسان ہو جاتا ہے۔

اصول

اپنے گھر میں موبائل فون استعمال کرنے کے حوالے سے اصول بنا لیں، خاص طور پر کھانا کھاتے وقت یا جب سب گھر والے مل کر ساتھ بیٹھیں تو اس وقت کسی کو بھی موبائل فون استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے۔

بستر پر لیٹنے سے پہلے موبائل دور رکھ دیں

اپنے گھر میں یہ اصول سب کے لیے رکھ دیں کہ رات میں بستر پر لیٹتے وقت ٹی وی اور موبائل فون استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہوگی، کیونکہ ہم سب سے زیادہ بستر پر سونے کے وقت لیٹ کر موبائل فون استعمال کرتے ہیں جس کی وجہ سے یہ ہماری عادت بن جاتی ہے جو صحت کے لیے بھی بے حد نقصان دہ ہے۔

موبائل کے مضر اثرات سے آگاہ کریں

یہ بہت ضروری ہے کہ گھر میں موجود ہر شخص کو موبائل فون کے استعمال کے مضر اثرات کے بارے میں بات چیت کر کے انہیں آگاہ کیا جائے تاکہ کوئی بھی موبائل فون کا زائد استعمال کرنے سے پہلے ایک بار اس کے نقصانات کے بارے میں ضرور سوچے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.