مقبوضہ کشمیر، بھارت نے ایک بڑی پابندی ختم کرڈالی

Spread the Story

نئی دہلی (جی سی این رپورٹ)بھارت نے اعلان کیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر پر 2 ماہ سے عائد سفری پابندیاں 10 اکتوبر سے ہٹادی جائیں گی۔بھارتی اخبار انڈیا ٹودے کی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ جموں کشمیر کے گورنر ستیا پال ملک نے محکمہ داخلہ کو وہ ہدایت نامہ ختم کرنے کا حکم دے دیا جس کے تحت وادی میں موجود سیاحوں کو علاقہ چھوڑنے کا حکم دیا گیا تھا۔اس حوالے سے ایک عہدیدار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ ان احکامات کا اطلاق 10 اکتوبر سے ہوگا۔یاد رہے کہ 5 اگست کی کارروائی سے قبل ہی بھارت نے مقبوضہ وادی میں غیر معمولی اقدامات اٹھانے شروع کردیے تھے جس کے تحت 2 اگست کو مقبوضہ کشمیر کے سفر پر پابندی عائد کر کے وادی میں پہلے سے موجود سیاحوں کو نکل جانے کا حکم دیا تھا۔یہاں یہ بات مدِ نظر رہے کہ بھارتی حکام کی جانب سے مقبوضہ وادی کا لاک ڈاؤن 2 ماہ سے زائد کا عرصہ گزر جانے کے باجود اب تک نہیں اٹھایا گیا۔بھارتی حکام کے اس اعلان کے باوجود برطانیہ اور دیگر ممالک نے اپنے شہریوں پر مقبوضہ کشمیر کا سفر نہ کرنے کی ہدایت برقرار رکھی ہے۔واضح رہے کہ کشمیر کو ’زمین پر جنت‘ کہا جاتا ہے جو اپنے خوبصورت پہاڑوں، گلیشیرز اور مشہور ڈل جھیل کے باعث مغل بادشاہوں کے زمانے سے ہی سیاحت کا مقبول ترین مقام ہے، جہاں صدیوں پہلے حکمران گرمیاں گزارنے کے لیے جاتے تھے۔یاد رہے کہ بھارت نےمقبوضہ کشمیر میں ہزاروں کی تعداد میں اضافی فوجی بھیج کر، کرفیو اور لاک ڈاؤن نافذ کرنے کے ساتھ خطے کی اہم سیاسی شخصیات کو قید کرنے کے بعد 5 اگست کو وادی کی خصوصی حیثیت ختم کرکے اسے 2 اکائیوں میں تقسیم کردیا تھا۔آرٹیکل 370 کے نفاذ کے بعد بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے دعویٰ کیا تھا کہ اس غیر معمولی اقدام کا مقصد مقبوضہ وادی کو ’ایک مرتبہ پھر جنت نظیر‘ بنانا ہے۔زمینی حقائق کے مطابق عوام بھارتی حکومت کے اس اقدام سے برہم ہیں جس کے باعث روزانہ احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، تاجر اپنے کاروبار کھولنے سے گریزاں جبکہ بچے اسکول جانے سے محروم ہیں۔یاد رہے کہ 5 اگست کے بعد سے 4 ہزار افراد کو گرفتار کیا جاچکا ہے جس میں 144 کم عمر لڑکے بھی شامل ہیں جبکہ ایک ہزار افراد اب بھی زیرِ حراست ہیں جس میں کچھ کو اس قانون کے تحت رکھا گیا ہے جو مشتبہ شخص کو بغیر کسی الزام کے 2 ماہ قید رکھنے کی اجازت دیتا ہے۔اس کے علاوہ بھارتی سیکیورٹی فورسز فائرنگ کے واقعات میں متعدد کشمیریوں کو شہید کرچکی ہیں اور پولیس نے ہتھیاروں کی برآمدگی کا بھی دعویٰ کیا علاوہ ازیں 70 لاکھ کی آبادی پر مشتمل وادی میں ٹیلی فون سروس بحال کردی گئی تھی البتہ موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس تاحال معطل ہے جبکہ بھارت کا اصرار ہے کہ صورتحال ’معمول کے مطابق‘ ہے۔بھارتی حکومت کی جانب سے مقبوضہ وادی میں سخت اقدامات کرنے کے 2 ماہ بعد وہاں کے ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے مواصلات اور انٹرنیٹ کی بندش کی وجہ سے کئی جانیں جاچکی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.