منفی 8ڈگری درجہ حرارت مگر تلاوت قرآن پاک نے لہو گرما دیا

Spread the Story

اوسلو (جی سی این رپورٹ)ناروے کی انتہائی سخت سردی میں کھلے آسمان تلے سیکڑوں مسلمانوں نے قرآن کی تلاوت کر کے کلام الٰہی سے اپنی عقیدت کا اظہار کیا۔ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں گزشتہ روز سیکڑوں مسلمان جن میں اکثر نارویجن پاکستانی تھے، کھلے آسمان تلے جمع ہوئے اور پورا ایک گھنٹہ سورۃ یاسین کی تلاوت کرکے قرآن کریم سے اپنی عقیدت اور وابستگی کا اظہار کیا۔یہ اجتماع اوسلو کے علاقے گرورود کے فٹ بال گراؤنڈ میں منفی آٹھ درجے سینٹی گریڈ انتہائی سرد موسم میں منعقد ہوا جس کی نظامت کے فرائض جامعہ باب العلم آستانہ عالیہ آل رسول اوسلو کے مہتمم مولانا سید فراست علی بخاری نے سرانجام دیئے۔اس تقریب میں گرورود گرجا گھر کی خاتون پادریہ مس انے بریت ایوانگ نے خصوصی طور پر شریک ہو کر مسلمانوں سے یکجہتی کا اظہار کیا۔اجتماع کے منتظم سید فراست علی بخاری نے خاتون پادریہ کو قرآن کریم اور بائبل کی ایک سو مشابہ آیات کے بارے میں نارویجن زبان میں اپنی کتاب پیش کی۔اجتماع میں شریک سرد لباس زیب تن کیے ہوئے لوگوں نے ہاتھوں میں قرآن کریم اٹھائے ہوئے تھے اور وہ اجتماع کے ناظم کے ساتھ مل کر قرآن کریم کی تلاوت کرتے رہے، اجتماع میں بڑی تعداد میں خواتین اور بچے بھی شریک ہوئے، اختتام پر دعا کی گئی۔ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں یہ اجتماع ایسے وقت میں منعقد کیا گیا جب دوہفتے قبل ناروے کے جنوبی شہر کرستیان ساند میں ایک انتہاپسند شخص نے پولیس کے منع کرنے کے باوجود لوگوں کے سامنے قرآن کریم کو آگ لگادی تھی جس سے پوری دنیا کے مسلمانوں میں غم و غصے کی لہر پھیل گئی۔اس موقع پر ایک شامی نژاد مسلمان نوجوان عمردھابہ نے اپنے ساتھیوں کی مدد سے قرآن کریم کی بے حرمتی کرنے والے اس متعصب شخص کو روکا اور پھر نارویجن پولیس نے قرآن کے جلتے ہوئے نسخے سے آگ بجھائی۔قرآن کریم کی آتش سوزی کے واقعے کے کچھ دن بعد کرستیان ساند شہر میں بھی سیکڑوں نارویجن مسلمان اور غیرمسلموں نے اسی مقام پر جمع ہوکر وہاں کلام الٰہی کی تلاوت کی جہاں اس کتاب مقدس کو آگ لگائی گئی تھی۔یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اس واقعے کے بعد ناروے سمیت پورے یورپ میں لوگوں میں قرآن کریم کے مطالعے کے رحجان میں اضافہ ہوا ہے۔ یورپی مسلمانوں نے قرآن کریم سے اپنی محبت کے اظہار کے لیے اس کلام الٰہی کو پہلے سے زیادہ پڑھنا شروع کردیا ہے اور غیرمسلم اس لیے اس کا مطالعہ کررہے ہیں تاکہ دیکھا جائے اس کتاب میں کیا ہے جس کے تقدس کو مسلمان ہرگز پامال نہیں ہونے دیتے۔کئی غیرمسلم ایسے ہیں جو انسانیت کے ناطے اس موقع پر مسلمانوں سے یکجہتی ظاہر کررہے ہیں تاکہ مسلمانوں کے زخمی دلوں پر مرہم لگائی جاسکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.