ناصر مدنی کو تشدد کا نشانہ کیوں بنایا گیا؟مرکزی ملزم سامنے آگیا،شرمناک الزامات عائد کردیئے

Spread the Story

لاہور (جی سی این رپورٹ ) ناصر مدنی پر تشدد کرنے والا مرکزی ملزم سامنے آگیا ہے۔ ملزم رضوان نے اتوار کے روز پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ ناصر مدنی نے میری بہن کے ساتھ دم کرنے کے بہانے زیادتی کی کوشش کی اس لیے تشدد کیا۔ ملزم رضوان نے کہا ہے کہ میں لندن سے شادی میں شرکت کرنے پاکستان آیا تھا، ناصر مدنی نے مجھ سے 7لاکھ روپے اور لیپ ٹاپ تحفے میں لیا اور وہ اپنی مرضی سے کھاریاں ہوٹل آیا تھا، رضوان علی خان نے کہا کہ پریس کانفرنس میں میرے ساتھ میری والدہ اور میری بہن بھی موجود ہیں ،میری بہن کو کوئی روحانی مسئلے تھے،مولنا ناصر مدنی میری بہن کو دم کرنے آیا تھا، میں بھی چاہتا تھا کہ میری بہن کے روحانی مسائل ٹھیک ہو جائیں، ناصر مدنی نے میرے گھر کے باہر اپنی گاڑی کھڑی کی اور پھر میری ماں کے پاس آیا اور دم کیا،اس موقع پر میرے ساتھ میری بہن بھی موجود تھی لیکن ہمیں ناصر مدنی کے منصوبے کا علم نہیں تھا کہ وہ کیا کرنا چاہتا ہے؟ ناصر مدنی نے میری والدہ کو دم کرنے کے بعد مجھے اور میری والدہ کو کمرے سے باہر جانے کا کہا جس پر میں اپنی والدہ کو کمرے سے لے کر باہر نکل گیا ،مولانا ناصر مدنی کا کہنا تھا کہ روحانی چیزیں ہوتی ہیں اور ہو سکتا ہے کہ وہ آپ کو تنگ کریں۔اس موقع پر رضوان خان کی بہن نے بتایا ہے کہ میرا نام سمیرا ہے اور میں انگلینڈ کی رہائشی ہوں، میرے ساتھ کوئی روحانی مسائل ہیں، میرے ساتھ میری والدہ بیٹھی ہیں ان کی بھی طبیعت ٹھیک نہیں ہے ،ناصر مدنی اپنی مرضی سے ہمارے گھر آیا میرا بھائی انہیں زبردستی ساتھ نہیں لائے،ناصر مدنی نے دم کے بہانے اکیلے کمرے میں مجھے ہراساں کرنا شروع کر دیا اور مجھ سے زبردستی کرنے کی کوشش کی تو میں نے خود کو غیر محفوظ سمجھتے ہوئے اونچا بولنا شروع کر دیا ،ناصر مدنی نے مجھے اونچا بولنے سے منع کیا تو میں نے چلانا شروع کر دیا ،میں عزت دار خاندان سے تعلق رکھتی ہوں اور انگلینڈ میں ٹیچر ہوں ،ناصر مدنی نے میرے ساتھ جو کرنا چاہا ،وہ کسی بھی طرح ہمارا خاندان اجازت نہیں دیتا

میں نے اپنے بھائی کو چیخ کر بلایا اور جو کچھ میرے ساتھ ہونے والا تھا وہ اس نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ،جس پر میرے بھائی نے ناصر مدنی کو مارا ،ہم صرف شادی کی خوشی منانے آئے تھے ،میرے دونوں بھائیوں کو پولیس کی حراست میں مارا جا رہا ہے ،پاکستان کے کس قانون میں لکھا ہے کہ پولیس کسی کے بھی گھر میں گھس جائے ؟میری موجودگی میں پولیس بغیر کسی خاتون پولیس اہلکار کے میرے گھر میں گھسی۔ملزم رضوان خان نے قرآن پاک ہاتھ میں اٹھا کر کہا کہ تشدد کے معاملے سے میرے بھائیوں کا کوئی تعلق نہیں ہے،جس وقت یہ معاملہ پیش آیا گھر میں صرف میری والدہ ،بہن اور میں تھا ،میں سورۃ یاسین پر ہاتھ رکھ کر کہہ رہا ہوں کہ میرے بھائیوں کا اس معاملے سے کوئی تعلق نہیں ،پولیس زبردستی میرے بھائیوں کو اس مقدمے میں الجھا رہی ہے،ناصر مدنی نے یہ سارا کھیل پیسوں کی خاطر کیا ہے،یہ اُس کے پیسے لینے کے گندے طریقے ہیں،ہاں میں نے ناصر مدنی پر تشدد کیا ہے کیونکہ مجھے اس پر اس وقت بہت غصہ آ رہا تھا ،جب وہ میرے گھر سے نکلا تو مجھے شدید غصہ آ رہا تھا اور میرے اعصاب میرے قابو میں نہیں تھے ،میں کسی داڑھی والے آدمی پر اب بھروسہ نہیں کرسکتا ،یہ سب مولوی جھوٹے ہیں۔یہ مجھ پر جھوٹے الزام لگا رہا ہے،اس نے مجھ سے ساڑھے سات لاکھ روپے لئے ہیں،میرے اور ناصر مدنی کے درمیان پیسوں کا بہت بڑا لین دین ہے،پیسوں کے علاوہ کوئی سیاسی یا مذہبی جماعت درمیان میں نہیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ ناصر مدنی مجھے اور میری فیملی کو ہراساں کرتے ہیں جبکہ پنجاب پولیس بھی مجھے اور میری فیملی کو ہراساں کر رہی ہے ،اس کیس میں پہلے ہی پولیس نے میرے دو بھائیوں کو گرفتار کیا ہوا ہے جن کا اس معاملے سے کوئی تعلق نہیں ہے،ناصر مدنی نے عجوہ ریسٹورنٹ میں سب کے سامنے اعتراف کیا تھا کہ وہ مجھ سے پیسے لے رہا ہے۔یاد رہے کہ گذشتہ دنوں عالمِ دین علامہ ناصر مدنی کو پروگرام کیلئے بلا کر اغواء کر کے تشدد کا نشانہ بنا یا گیا تھا،ناصر مدنی نے الزام عائد کیا کہ میرے کپڑے اتار کر ویڈیو بنائی گئی اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور میڈیا پر آنے کی صورت میں شدید دھمکیاں بھی دی گئیں۔ وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے مولانا ناصر مدنی پر بہیمانہ تشدد کا نوٹس لیا تھا۔آئی جی پنجاب کو ملزمان کیخلاف سخت کارروائی کی ہدایت کی گئی اور اب ناصر مدنی پر تشدد کرنے والے ملزمان کو گرفتار کرلیا گیاتھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.