نو مسلم لڑکی علیزہ کو بڑی خوشخبری مل گئی

Spread the Story

جیکب آباد(طارق محمود)سندھ کے شہر جیکب آباد کے جوڈیشل مجسٹريٹ نے ہندو مذہب ترک کر کے مسلمان ہونے والی سابق مہک کماری اور موجودہ علیزہ کو شوہر کے ساتھ رہنے کے اجازت دے دی۔سابق مہک کماری اور موجودہ علیزہ کو آج جیکب آباد کی عدالت میں دوبارہ پیش کیا گیا، مہک کے گھر والوں نے مقدمہ درج کیا تھا کہ لڑکی نابالغ ہے اسے اغواء کیا گیا ہے۔علیزہ نے عدالت میں اپنا حلفیہ بیان دیا ہے کہ اس نے مرضی سے اسلام قبول کیا اور اسے کسی نے اغوا نہیں کیا ہے۔اپنے بیان میں علیزہ نے یہ بھی کہا ہے کہ میرے شوہر اور خاندان کے خلاف میرےاغواء کا جھوٹا مقدمہ درج کرایا گیا ہے۔علیزہ نے عدالت سے تحفظ فراہم کر کے مقدمات ختم کرنے کی استدعا بھی کی ہے۔واضح رہے کہ مبینہ اغوا کا مقدمہ مہک کماری کے گھر والوں نے دائر کرایا تھا۔لڑکی نے ایک ویڈیو بیان میں اپنی عمر 18 سال بتاتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے مرضی سے اسلام قبول کر کے شادی کی ہے۔علیزہ کو گزشتہ روز سول اینڈ جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا گیا تھا، اس موقع پر لڑکی کے اہلِ خانہ بھی موجود تھے۔تاہم عدالت نے اس کے شوہر علی رضا سولنگی کی غیر حاضری پر فریقین کو آج (منگل کو) دوبارہ طلب کیا تھا۔مہک کماری کے والد وجے کمار نے علی رضا سولنگی کے خلاف سول لائن تھانے میں اپنی بیٹی کے اغواء کا مقدمہ درج کرایا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.