پاکستان کے جوہری انجینئرز نے ایسا کام کر ڈالا کہ انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی نے سر پکڑ لیا

Spread the Story

اسلام آباد(ساجد چودھری)انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی(آئی اے ای ای)نے اپنی سال2019کی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے انجینئروں نے پاکستان میں نئے ایٹمی پلانٹ نصب کرنے اور نئے ایٹمی بجلی گھروں کی تعمیرکی صلاحیت حاصل کر لی ہے اور انجینئرنگ ڈیزائن آرگنائزیشن قائم کر دی ہے جو اس وقت چشمہ 3، چشمہ 4 ،کراچی2اور کراچی 3 نیوکلیئر پاور پلانٹ کی تعمیر اور انہیں چلانے کے عمل میں مکمل طور پر شریک ہے اور اس قدر تجربہ حاصل ہو چکا ہے کہ مستقبل میں ایٹمی بجلی گھروں کی تعمیر اور انہیں چلانے کیلئے پاکستان کو بیرونی انجینئرروں کی ضرورت نہیں ہوگی بلکہ ملکی انجینئروں کی خدمات سے استفاہ کیا جائے گا جس سے پاکستان میں مزید 8 سے 10 مجوزہ ایٹمی بجلی گھروں کی تعمیرمیں بھاری زرمبادلہ کی بچت ہوسکے گی۔ آئی اے ای اے نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں بتایا ہے کہ پاکستان نے ایٹمی مواد کے تحفظ( فیزیکل پروٹیکشن)سمیت 5 بین الاقوامی معاہدوں کی توثیق کر دی ہے جبکہ 2 معاہدوں کی توثیق ابھی کرنی ہے۔ جن عالمی معاہدوں کی توثیق کر لی گئی ہے ان میں ایٹمی حادثات سے بچائو کیلئے پیشگی اقدامات،ایٹمی حادثات کی صورت میں تابکاری سے تحفظ کیلئے ایمرجنسی کے نفاذ، ایٹمی اثاثہ جات کے تحفظ، ایٹمی مواد کے تحفظ اور نیو کلیئر سیفٹی جیسے معاہدے شامل ہیں۔ جن 2 اہم معاہدوں کی توثیق پاکستان نے اب تک نہیں کی ہے، ان میں ایٹمی بجلی گھروں میں استعمال ہونے والے ایندھن کو استعمال کرنے کے بعد ٹھکانے لگانے و تابکاری کا انتظام کرنے اور ایٹمی حادثات کی صورت میں متاثرین کو زر تلافی یا ازالہ کے معاہدے شامل ہیں۔ رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ کراچی میں زیر تعمیر 1014میگاواٹ کے نیوکلیئر پاور پلانٹ2اور3 کا کمرشل آپریشن31 جولائی2020 سے31جولائی2022تک شروع ہو جائے گا، ان منصوبوں کے مکمل ہونے سے پاکستان کا فنانشل حب روشنیوں سے منور ہوگا جبکہ معاشی ترقی کے اس انجن کو بھرپور توانائی کی فراہمی شروع ہو جائے گی۔آئی اے ای اے کے مطابق20اگست2015کو شروع ہونے والے کراچی نیوکلیئر پاور پلانٹ2 کا کمرشل آپریشن 31 جولائی 2020 کو شروع ہوگا، میرمئی2016میں شروع ہونے والے کراچی نیوکلیئرپاور پلانٹ کے کمرشل آپریشن کی تاریخ کا تعین جلد کرلیا جائے گا، ان دو ایٹمی بجلی گھروں کی پیداواری صلاحیت60سال کیلئے ہے اور اس میں توسیع بھی کی جا سکے گی۔ پاکستان میں اس وقت 5 ایٹمی بجلی گھر کام کر رہے ہیں، ان میں چشمہ نیو کلیئر پاور پلانٹ ون(300میگاواٹ)،چشمہ نیو کلیئر پاور پلانٹ ٹو(300میگاواٹ)، چشمہ نیو کلیئر پاور پلانٹ تھری(315میگاواٹ)، چشمہ نیو کلیئر پاور پلانٹ فور(313میگاواٹ)اور کراچی نیو کلیئر پاور پلانٹ ون(90میگاواٹ) شامل ہیں جبکہ کراچی نیوکلیئر پاور2سے1014میگاواٹ اور کراچی نیوکلیئر پاور پلانٹ تھری سے بھی 1014میگاواٹ سستی بجلی پیدا ہوگی، ان پلانٹس کی تعمیر اس ویژن کا حصہ ہے جس کے تحت پاکستان میں ایٹمی بجلی کا حصہ2030تک8000میگاواٹ تک بڑھانا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.