کابینہ میں تبدیلیاں اور پارلیمانی جمہوری نظام پہ ہمیشہ کی طرح منڈلاتے خطرات اور مزید متوقع تبدیلیاں

Spread the Story

تحریر سردار محفوظ طاہر ۔
چند دن پہلے پی ٹی آئی حکومت جو تبدیلی کے نعرے کے ساتھ حکومت میں آئی یا لائی گئی تھی اس کی کابینہ میں بڑی تبدیلی کر دی گئی۔ بظاہر فیصلے وزیر اعظم کے ذریعے ہی ہوئے ہیں لیکن سب جانتے ہیں اصل طاقت کہاں ہے۔ وزیر خزانہ اسد عمر کی تبدیلی اور حفیظ شیخ کو انکی جگہ لانا کسی صورت عمران خان کا فیصلہ نہں لگتا۔ اسی طرح عمران خان سے وزارت داخلہ لینا اور بینظیر بھٹو کے قتل میں نامزد ملزم مشرف دور میں ظلم و ستم کرنے والے اسٹیبلشمنٹ کے انتہائی متنازعہ شخص اعجاز شاہ کو وزیر داخلہ بنوانا بھی عمران خان کا ذاتی فیصلہ نہں لگتا۔ بلکہ یہ وزیر اعظم اور حکومت کی معاشی اور داخلہ پالیسی پر عدم اعتماد کرکے وہاں اپنے خاص بندے بٹھائے گئے ۔ خارجہ میں پہلے ہی انکی مرضی کا بندہ ہے۔ اگر ذرا ماضی میں جائیں تو نواز شریف نے ان جگہوں پہ خواجہ آصف خرم دستگیر احسن اقبال پرویز رشید مشاہد اللہ اسحاق ڈار جیسے وزیر بٹھائے ہوئے تھے جو کسی طور قابل قبول نہں تھے اور وہاں اپنی مرضی چلاتے مشکل ہوتی تھی وہ براہ آرڈر نہں مانتے تھے اسی لیے اس وقت دھرنے اور لاک ڈائون اور میڈیا یلغار کروانی پڑتی تھی اور پھر عدالتوں کی ذریعے نااہلی آج تک چور ثابت کرنے کی کوشش جیلیں پیشیاں سب کچھ سامنے ہے۔ خان صاحب ابھی تک نواز شریف کے برعکس حکم مانے جا رہے ہیں لیکن پھر بھی انکو ریڈار پہ رکھ لیا گیا ہے۔ اور معاشی اور داخلہ پالیسی پہ عدم اعتماد کر کے اور مشرف دور کے اپنے بندے لا کے پہلا جھٹکا دے دیا گیا ہے۔
پاکستان کی بڑی بے رحم سیاسی جمہوری تاریخ ہے جس بات کی اگلے دن تردید ہو وہ دوسرے دن ہو جاتی ہے۔ اب اطلاعات گردش کر رہی ہیں کہ کچھ عرصے تک پنجاب میں چوہدری نثار علی خان کو وزیر اعلی لانے کے آپشن پر غور شروع کر دیا گیا ہے۔ اگر ایسا کیا گیا جس کے نمایاں آثار ہیں تو یاد رہے وہ ابھی تک آزاد حیثیت میں ہیں آزاد جیتنے والے انکے ساتھ آسانی سے کر دیئے جائیں گئے عمران خان کو کہا جائے گا وہ آپکے دوست ہیں کرپشن سے پاک ہیں اپ کی پارٹی میں گروہ بازی بھی نہں ہو گی انکی وجہ سے ۔ ساتھ انہں یہ بھی نوید دی جائے گی کہ نثار علی خان کے آنے سے آدھی مسلم لیگ ن ٹوٹ کر انکے ساتھ آ جائے گی۔ ساتھ ہی مسلم لیگ ن کو تسلی دی جائے گی کہ نثار کے آنے سے آپ پر برا وقت کم ہو گا اور خان کے انتقام سے اپ کو ریلیف ملے گا۔ گجرات کے جوہدری عثمان بزدار جیسے کمزور بندے کے ساتھ خوش ہیں۔ اپنے اوپر بڑا چوہدری انہں اچھا تو نہں لگے گا لیکن انکی کس نے سننی ہے۔ یو چوہدری نثار علی خان سب پارٹیوں کے وزیر اعلی ہونگے عملدرآمد کے بعد۔
یہ مرحلہ طے ہو گیا تو عمل کی باتیں بعد کی۔ پھر ایسی بھی خبریں اور خدشات ہیں کہ چھ ماہ سے ایک سال میں عمران خان کو مکمل ناکام ثابت کر کے ان سے استفعی لے لیا جائے گا شاہ محمود قریشی یا کوئی اور کمزور بندہ لایا جائے گا۔ پھر ان سب کو ناکام نکٹھو ثابت کر کے پارلیمانی جمہوری نظام کو ناکام ثابت کیا جائے گا قوم کو پیغام دیا جائے گا کہ آپ نے آخری تبدیلی والا بھی دیکھ لیا۔
اتنے میں قوم میڈیا مالشین کے ذریعے ایک ایماندار صدر قابل ٹیکنوکریٹ کی حکومت کی افادیت سے آگاہ ہو چکے گی ۔ قانون سازی نہ ہو سکی تو کچھ عرصے کی ایمرجنسی لگا کے ضیا الحق کی طرح سوال کیا جائے گا
(کہ کیا آپ پاکستان اور اسلام کی بقا کے لیے ملک میں صادق اور امین صدارتی نظام چاہتے ہیں ) 99 فیصد ہاں میں جواب آئے گا تو صدارتی نظام کا ظہور ایسے ممکن بنایا جا سکتا ہے۔
اس کے بعد ملک بچے گا یا نہں اس کی فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہں بنگال گیا تو کیا ہوا مصیبت تھی وہ ملک کے لیے بلوچستان گیا تو کیا ہو جائے گا پختون بھی گئے تو کھپ ختم ہو گی جموں کشمیر تو ہمارا کبھی تھا ہی نہں نہ ہو سکتا ہے۔ سندھ پنجاب بھی بچ گیا تو نام تو پاکستان ہی رہے گا اور راجدھانی تو ہماری رہے گی جو سب سے ضروری ہے ہمارے لیے ہماری اولادوں کے کاروباری تحفظ کے لیے۔
کیونکہ قوم نے نہ جاگنا ہے نہ سبق حاصل کرنا نہ اصل حاکموں نے۔
(ختم شد)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.