یکساں اور انقلابی نظامِ تعلیم کا مختصرخاکہ

Spread the Story

تحریر و تحقیق ۔ اشتیاق احمد
انقلابی نظامِ تعلیم کا مطلب یہ ہے کہ ایسا تعلیمی نظام جو انفرادی اور اج تماعی طور ہر افراد کی تربیت کرے۔ انہیں اچھا مسلمان اور محب، وطن شہری بنائے۔اس کے ساتھ ساتھ وہ قوم پر تحقیق، تخلیق اور ایجادات کے دروازے کھولے۔قوم کو ہر لحاظ سے خود کفیل بنائے۔آئیے ایسے انقلابی نظامِ تعلیم کا مختصر خاکہ ملاحظہ فرمایئے۔
یہ نظام پہلی جماعت سے پی ایچ ڈی تک کے مراحل پر مشتمل ہوگا
1:پہلی سے پانچویں جماعت تک صرف دو کتابیں ہوں پہلی اردو اور دوسری ریاضی کی۔سائنس ،معاشرتی علوم،اسلامیات ،جغرافیہ اور دیگر علوم کی بابت مضامین سادہ اور آسان پیرائے میں اردو کی کتا ب میں ہی ہوں ۔اس کے علاوہ ریاضی کی کتاب میں جمع تفریق اور ضرب تقسیم کی بنیادی مہارتیں اور روز مرہ کی پیمائشیں وغیرہ ہوں ۔املا اور ریاضی کی مہارتوں کو پختہ کرنے کے لیے تختی اور سلیٹ کا استعمال لازمی ہو ۔بھاری بھرکم کاپیوں ،دستوں اور پنسلوں کا بوجھ صرف اشرافیہ کے چونچلے ہیں اور مفت تعلیم میں ایک بڑی رکاوٹ ہیں۔
2:چٹھی سے آٹھویں جماعت تک اردو اور ریاضی کے ساتھ ایک تیسری کتاب سائنس کی ہو ۔سائنس کی یہ کتاب ماحول سے مربوط سائنسی تصورات پر مشتمل ہو ۔انسانیات، حیوانیات ور نباتیات کا علم ماحول اور تہذیب و ثقافت سے مربوط ،سادہ اور آسان اصطلاحات میں ہو۔انگریزٰی یا کوئی دوسری زبان لازمی طور پر نہیں نافذ نہ کی جائے۔
3:نہم و دہم میں اردو اور ریاضی کی لازمی حیثیت کے ساتھ طبیعات ،کیمیا ،حیاتیات اور کمپیوٹر کے آسان فہم کورسز پڑھائے جائیں ۔ان تمام کورسز کا میعار ترقی یافتہ ممالک کے برابر ہو ۔ان مضا میں کے ساتھ آرٹس کے تمام مضامین شامل ہوں ۔طالب علموں کو مختلف زبانیں پڑھنے کی بھی اجازت ہو گی مگر اختیا ری حیثیت سے ۔پہلی جماعت سے میٹرک تک کے اس نصابی خاکے کی سب سے بڑی خوبی یہ ہو گی کہ پہلی جماعت میں داخل ہونے والے بچوں کی کل تعداد کا کم از کم ۸۰ سے ۹۰ فی صد حصہ بلا کسی رکاوٹ کے میٹرک پاس کر جائے گا جبکہ موجودہ صورت حال یہ ہے کہ پہلی جماعت میں داخل ہونے والے بچوں کی کل تعداد کا صرف ۱۰ فی صد حصہ میٹرک کر پاتا ہے ۔باقی ۹۰ فی صد انگریزی میں الجھ کر تعلیم کو خیرباد کہہ دیتا ہے۔ذرا سو چیے کہ یہ ایک عظیم انقلاب نہیں ہو گا ؟
4:گیارہویں اور بارہویں جماعت میں اردو ، اسلامیات ،مطالعہ پاکستان کی لازمی حیثیت کے ساتھ تمام تر سائنسی اور غیر سائنسی مضامین اردو میں ہی پڑھائے جائیں جیسا کہ پاکستان کے صوبہ سندھ میں سندھی اور اردو میں پڑھائے جاتے ہیں اس کے لئے بھارت میں چھپنے والی سائنسی مضامین کی تمام کتابیں ایک نمونے کی حیثیت رکھتی ہیں جو کہ ncertbooks.comپر دستیاب ہیں ۔انٹرمیڈیٹ میں بھی طالب علموں کو تمام تر مضامین قومی زبان میں ہی پڑھائے جا ئیں یہاں بھی دیگر زبانیں اختیاری طور پر پڑھانے کے انتظامات ہوں ۔
5:بی ایس سی اور ایم ایس سی کے تمام تر کورسز فوری طور پر اردو میں تیار کئے جائیں ۔ زیادہ تر کورسز اردو یو نیورسٹی کراچی اور مولانا ابوالکلام آزاد یونیورسٹی حیدر آباد دکن نے پہلے سے تیار کئے ہوئے ہیں جنہیں ملک کی تمام یونیورسٹیوں میں رائج ہونے کے لیے قوت نافذہ کا انتظارہے۔جو کورسز بچ گئے ہیں انہیں بھی جلد از جلد ترجموں کے سانچے میں ڈھال لیا جائے۔پہلے پانچ سالوں میں ہر مضمون کا امتحان اردو میں دینے کی اجازت دی جائے ۔ اس سے خود بخود ہر سطح کا نصاب ترجمہ ہونا شروع ہو جائے گا۔قرین قیاس ہے کہ سب سے پہلے ایم بی بی ایس کا نصاب ترجمہ کیاجائے۔
6:ہر یونیورسٹی میں جامعہ عثمانیہ حیدر آباد دکن کی طرز کا دارالترجمہ قائم کیا جائے جہاں ایم فل اور پی ایچ ڈی کے مقالہ جات کے ساتھ ساتھ دیگر کتابوں کی تصنیف و اشاعت کا ہدف مقرر کیا جائے۔10 سالوں میں یونیورسٹیوں کی لائبریریاں ہمارے اپنے لوگوں اور اپنی زبان میں لکھی ہوئی کتابوں سے بھر جائیں گی۔اس طرح خود انحصاری اور تحقیق و تخلیق کی وہ دولت ہاتھ آئے گی جس کے طفیل پہلی جماعت میں داخل ہونے والے بچوں کا ۶۰ سے ۷۰ فی صد حصہ ماسٹر ڈگری کا حامل ہو گا او ر ایجادات کے صدیوں سے بند دروازے کھل جائیں گے۔ذرا موجودہ صورت حال دیکھئے کہ ہمارے بچوں کا 1 فی صد حصہ بھی بی اے ،بی ایس سی نہیں کر پاتا۔ راستے میں تعلیم سے دلبرداشتہ ہو کر جو وسائل ضائع ہوتے ہیں وہ تو کسی حدو حساب میں نہیں ہیں۔ اس کے علاوہ ایم بی بی ایس اور ایم ایس سی وغیرہ میں ہمارے طلبہ طلباء و طالبات اپنے کورسز کو صرف پانچ سے دس فی صد تک سمجھتے ہیں جبکہ باقی سارا رٹا ہوتاہے۔ان اقدامات کی بدولت رٹا صرف پانچ سے دس فی صد تک رہ جائے گا جبکہ ۹۰ سے ۹۵ فی صد تک نفسِ مضمون کا فہم ہو گا۔یہ ایک بڑے انقلاب کی صورت ہو گی۔
7:جامعات کے علاوہ ہر ضلع میں ایک ترجمہ مرکز قائم ہو جہاں دیگر زبانوں سے علوم وفنون منتقل کرنے کے ساتھ ساتھ قومی اور علاقائی زبانوں کی ترقی کے لیے بھی کام کیا جائے۔ان تمام ترجمہ مراکز کو ایک مرکزی دارالترجمہ سے کنٹرول کیا جائے اور ضروری رہنمائی و تر بیت فراہم کی جائے ۔دنیا میں موجود کسی بھی ملک نے یہ کام کئے بغیر ترقی نہیں کی۔
8:تمام جامعات اور اضلاع کی سطح پر کئے گئے تحقیقی کام کی ہر سال کسی مناسب جگہ پر نمائش کی جائے اور بہترین محققین و مصنفین کو انعام واکرام اور دیگر مراعات سے نوازا جائے۔شہروں کے علاوہ ہر گاؤں میں ایک دارالمطالعہ قائم کیا جائے جہاں مطالعہ کے شوقین نچلی سطح پر کتاب کو اپنی دسترس میں پائیں اور پڑھنے لکھنے کے ذوق کی آبیاری کا دائرہ وسیع ہو ۔
9:پہلی جماعت سے ایم بی بی ایس اور ایم ایس سی تک کے تمام کورسز آسان فہم زبان میں سی ڈیز پر تیار کئے جائیں اور بازار میں عام سی ڈی یا ڈی وی ڈی کی صورت میں دستیاب ہوں ۔یہ تمام مواد مثالی اسباق کی صورت میں ہو جس سے علوم وفنون کا فہم آسان ہو اس سے ٹیوشن کا مذموم کاروبار خود بخود دم توڑ جائے گا۔رٹے کی بیماری ختم ہو جائے گی اور اس کی جگہ فہم و ابلاغ آ جائے گا۔ملاحظہ فرمائیے ناچیز کی تیار کی ہوئی سینکڑوں ویڈیوز ،مثالی اسباق کی صورت میں youtube پر جن کے پتے ishtiaqahmedishاور ishtiaqahmad1000اوراس کے علاوہ tahqeeqotakhleeq.blogspot.comپر ہزاروں گھنٹوں پر مشتمل اسباق شامل ہیں۔
10:ملک میں فرہنگستانِ علم کے نام سے تمام علوم و فنون کی اصطلاحات اپنے ماحول، زبان اور ان کے تاریخی پسِ منظر کے اعتبار سے وضع کی جائیں اور ان کو عملاً نصاب کا حصہ بنایا جائے۔یاد رہے کہ کوئی بھی قوم پہلے الفاظ و اصلاحات ایجاد کرتی ہے اور اس کے بعد آلات و اشیاء۔یہ ایک زبردست تخلیقی عمل ہے اس سے گزرنے والی قوم پر تخلیقات و ایجادات کے دروازے بند ہو ہی نہیں سکتے۔
11:ہر ضلع میں ایک یونیورسٹی اور ایک میڈیکل کالج ہو ۔مذکورہ بالا اصلا حات کے نتیجہ میں بچے اتنی بڑی تعداد میں ماسڑ ڈگری تک پہنچیں گے کہ ضلعی سطح پر قائم کردہ یہ ادارے کم پڑ جائیں گے اور انہیں تحصیل سطح پر لانا پڑے گا۔ضمناً عرض کرتا چلوں کہ ہمارے حکمران دانستہ طور پر اپنی عوام کو اَن پڑھ رکھ کر ان پر جاگیردارانہ اور وڈیرہ شاہی نظام مسلط کر رہے ہیں۔یہ اصلاحات واحد ذریعہ ہیں ان سے پیچھا چھڑوانے کا۔
12:اصولی طور پر معاشرے کو تعلیم فراہم کرنا ریاست کی ذمہ دار ی ہے۔ریاست کے وزیر اور مشیر خود ہی اپنے اپنے سکول سسٹم کھول کر بیٹھ جائیں اور سامراجی مداخلت کے ساتھ ایک کمائی کا بڑا ذریعہ بنا لیں تو ظاہر ہے کہ غریبوں کے لئے قائم کردہ سکول اور کالج خود بخود تباہ ہو جائیں گے۔ان تمام سیاسی مگر مچھوں کے تعلیمی اداروں کو بند کر دیا جائے اور ان کے بچوں کو غریبوں کے بچوں کے ساتھ پڑھنے کے لئے بٹھایا جائے تاکہ کبرو نخوت کے ان مجسموں کی گردنوں میں تنا ہوا سریہ نکل جائے اور وہ انسانیت کی سطح پر اُتر کر اپنے اردگِرد دیکھنا شروع کر دیں ۔
13دینی مدارس کے نظام میں بھی اصلاحات لائی جائیں۔دینی علوم کے ساتھ ساتھ سائنسی اور معاشرتی علوم بھی پڑھائے جائیں تاکہ وہاں سے فارغ التحصیل افراد عالمِ دین بننے کے ساتھ ساتھ مستند طبیب اور سائنسدان بھی بن سکیں۔ہر بڑے مدرسہ میں ایک دارالترجمہ بھی قائم ہو ۔قرونِ وسطیٰ کے تحقیقی مراکز اسی طرز پرقائم تھے۔
14:مسجدوں کو بھی بچوں کو پڑھانے کے لیے استعمال میں لایا جائے ۔سکولوں کی کمی کو پورا کرنے کے لیے صبحُ و شام کی کلا سیں بھی لگائی جا سکتی ہیں۔نیت ٹھیک ہو تو بوہڑ،پیپل اور شیشم وغیرہ کے بڑے بڑے درختوں کے سایہ میں بھی بچوں کو بٹھا کر بھی تعلیم دی جا سکتی ہے ۔فر نیچر ضروری نہیں صفوں اور ٹاٹوں پر بیٹھ کر بچے آسانی سے پڑھ سکتے ہیں۔ٹاٹ سسٹم ختم کر کے فر نیچر کا شور مچانا ہمارے سیاسی شعبدہ بازوں اور کمیشن مافیا کی لوٹ مارکا ڈھونگ کے علاوہ کچھ اور نہیں ۔جو لوگ روٹی کو ترستے ہیں انہیں ٹاٹوں پر بٹھا کے ہی پڑھانا ممکن ہے۔ہاں ، پڑھ لکھ کر ترقی کرنے کے بعد وسائل کو یکساں تقسیم کر کے بہتری لائی جا سکتی ہے۔
15:تمام تر مقابلے کے امتحانات اردو میں لیے جائیں گے۔ اس سے موچی اور نائی (یہ پیشے بھی باقی پیشوں کی طرح قابل احترام ہیں) کا بیٹا بھی اعلیٰ عہدوں پر فائز ہو سکے گا۔ان امتحانات کو انگلش میں لینا ملک کے 99فی صد لوگو ں کو آگے آنے سے روکنے کے مترادف ہے۔سپوکن انگلش اور انگریزی ذریعہ تعلیم کے پاگل پن کو ختم کر کے ایسے ماہرین تیار کئے جائیں جو غیر ملکی زبانوں کے ماہر ہوں اور انہیں اپنی مادری زبان پر بھی اعلیٰ درجے کاعبور حاصل ہو ۔ان افراد کے ذمہ دوسری زبانوں کے علوم وفنون کو اپنی زبان میں منتقل کرنا ہو اور وطنِ عزیز میں سب سے زیادہ تنخواہ تحقیق کاروں کو ہی دی جائے ۔ وطنِ عزیز کا عدالتی نظام قومی اور صوبائی زبانوں میں ہو۔ اس سے انصاف کی فراہمی آسا ن اور سہل ہو گی۔انگریزی میں لکھے ہوئے عدالتی فیصلے کی چٹھی پورے پورے گاؤں پڑھنے سے قاصر رہتے ہیں۔
16:بازار میں مختلف قسم کے بینر اور اشتہاری بورڈ صرف اردو یا مقامی زبان میں لکھنے کی اجازت ہو تاکہ قومی زبان قومی تفاخر کا ذریعہ بنے۔
17:غیر ملکی امداد پر ہر قیمت پر پابندی لگائی جائے کیونکہ غیر ملکی امداد ایسی پالیسیوں کے ساتھ مشروط ہوتی ہے جو بالآخر قوم کو جاہل اور گنوار بنا کر رکھ دیتی ہے جیسا کہ پاکستان میں خصو صاً صوبہ پنجاب میں تمام تر پالیسی ساز اداروں کو جن میں پنجاب ٹیکسٹ بُک بورڈ اور ڈائریکٹو ریٹ آف سٹاف ڈویلپمنٹ لاہور جیسے ادارے شامل ہیں ان کو سامراجیوں نے ایسٹ انڈیا کمپنی کے اڈوں میں تبدیل کر دیا ہے۔
18:مسلم ممالک کے ساتھ مل کر مشترکہ تعلیمی منصو بے شروع کیے جائیں ۔ایک دوسرے سے جدید ترین علوم و فنون کا تبادلہ کیا جائے ۔تراجم کے کام میں خصو صاً باہمی تعاون کو فروغ دیا جائے اور اُمتِ مسلمہ کو جو تعلیم و تحقیق کے میدان میں چیلنجز کا سامنا ہے ان سے نمٹنے کی حکمت عملی وضع کی جائے ۔
19:سب سے اہم بات یہ کہ قوم کوحقیقی اسلامی تہذیب سے روشناس کرانے اور ان میں بہترین اخلاقی اوصاف پیدا کرنے کے لئے چٹھی جماعت سے سو لہویں جماعت تک مکمل قرآن مجید ترجمہ کے ساتھ پڑھایا جائے ۔ اس سے فرقہ واریت کی جڑیں بھی خود بخود کھوکھلی ہو جائیں گی اوراس سے قومی یکجہتی اور ایمان کی پختگی جیسی بے شمار لازوال نعمتیں حاصل ہوں گی۔
حرفِ آخر : مذکورہ بالا اقدامات میں یقیناً مختلف زاویوں سے ترمیم و اضافہ اور بہتر تجاویز ممکن ہیں مگر یہ ناچیز پورے وثوق کے ساتھ کہتا ہے کہ ان پر عمل کرنے سے پاکستان بیس سالوں میں سپر طاقت بن جائے گا ورنہ جو کچھ تعلیمی نظام کے ساتھ ہو رہا ہے اس سے اس کے وجود کو بے شمار خطرات لاحق ہیں۔اسے ٹکڑے ٹکڑے کرنے اور اسے انتہائی حد تک کمزور کرنے کے آثارو شواہد ہر طرف بکھرے پڑے نظر آتے ہیں۔دشمن نے یہ محاذ اس لئے چنا ہے کہ تمام محاذوں کو جانے والے راستے اسی سے گزرتے ہیں۔آئیے ان تمام سازشوں کا مقابلہ کرنے کے لیے سینہ سپر ہو جائیں اور حتی المقدور وسائل اکٹھے کر کے اس وطن کو تر قی و خوشحالی کے بامِ عروج تک پہنچا دیں۔”
فآ طمہ قمر پاکستان قومی زبان تحریک

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.