2018 کے انتخابات میں کس سیاسی شخصیت نے علی وزیر کے مقابلے میں اپنا امیدوار دستبردار کروایا۔۔۔

Spread the Story

حامد میر

اُس دن اسلام آباد کا موسم بہت سرد تھا، صبح سے بارش ہو رہی تھی، یہ موسم دل میں ایسی خواہشیں پیدا کر رہا تھا جو میرے لیے عیاشی کے زمرے میں آتی ہیں۔

اُس دن میں ایک پرانے ساتھی ناصر بیگ چغتائی کی کتاب ’سلگتے چنار‘ ایک ہی نشست میں پڑھ ڈالنے کا منصوبہ بنائے بیٹھا تھا کہ عوامی نیشنل پارٹی کے ترجمان زاہد خان کا فون آ گیا۔

زاہد خان نے یاد دلایا کہ آج نیشنل پریس کلب میں باچا خان پر سیمینار ہے اور آپ نے وہاں آنا بھی ہے اور کچھ کہنا بھی ہے، فون بند ہوا تو میری نظریں ’سلگتے چنار‘ پر جم گئیں جس میں مسلسل شعلے لہرا رہے ہیں۔

چناروں کے دیس میں شعلے بجھانے کے لیے باچا خان نے بھی بار بار اپنی خدمات پیش کی تھیں کیونکہ وہ نہرو سے بھی بات کر سکتے تھے اور شیخ عبداللہ سے بھی، نواب افتخار ممدوٹ اور حمید نظامی نے باچا خان کی پیشکش باقاعدہ حکومتِ پاکستان تک پہنچائی تھی لیکن حکومت نے جواب میں کہا ہمیں غداروں کی مدد نہیں چاہئے۔

 چناروں میں سلگتے شعلے بجھانے کی تمنا نے باچا خان کے ساتھ ایک ایسا رشتہ قائم کر رکھا ہے کہ میں سردی اور بارش سے لڑتا اور بھیگتا ہوا پریس کلب پہنچ گیا، خیال تھا کہ جلدی جلدی کچھ کہہ کر دفتر چلا جاؤں گا لیکن یہاں سیمینار شروع ہوا تو محسوس ہوا کہ مقررین کے الفاظ زبان سے نہیں دل سے نکل رہے ہیں۔

میاں افتخار حسین نے وہی بات کر دی جو مجھے اس سیمینار میں کھینچ کر لائی تھی، انہوں نے بتایا کہ باچا خان نے دو مرتبہ مسئلہ کشمیر حل کرانے کیلئے اپنی خدمات پیش کیں لیکن دونوں مرتبہ اُن کی پیشکش مسترد کر دی گئی۔

فرحت اللہ بابر نے کہا کہ جس شخص نے محترمہ فاطمہ جناح کی حمایت کی اُسے پاکستان میں غدار قرار دے کر جیل میں قید کر دیا گیا، ڈھائی گھنٹے یہیں گزر گئے اور میں اسٹیج سے اُٹھنے کی ہمت نہ کر سکا کیونکہ سخت سردی اور بارش کے باوجود میرے سامنے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد بڑے انہماک سے ہماری باتیں سُن رہی تھی، اُن کی آنکھوں میں موجود چمک میرے لئے اُمید کی کرن تھی، یہ کرنیں مجھے تسلی دے رہی تھیں۔

سوا پانچ بجے کے قریب پریس کلب سے نکلا تو باہر پولیس کی بھاری تعداد موجود تھی، اتنی سخت بارش میں پریس کلب کے باہر پولیس والوں کا ہجوم غیرمعمولی تھا، دفتر پہنچا تو کسی نے بتایا کہ رکنِ قومی اسمبلی محسن داوڑ کو پریس کلب کے باہر سے گرفتار کر لیا گیا ہے کیونکہ وہ منظور پشتین کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔

جس جگہ سے محسن داوڑ گرفتار ہوئے اس جگہ پر دو سال قبل عمران خان اور میں نے منظور پشتین کے ہمراہ ایک دھرنے سے خطاب کیا تھا، پھر منظور پشتین اور ریاستی اداروں میں مذاکرات شروع ہو گئے۔

جولائی 2018کے انتخابات سے قبل عمران خان نے منظور پشتین کے مطالبات کی حمایت کی اور جنوبی وزیرستان میں تحریک انصاف کے اُمیدوار کو علی وزیر کے مقابلے پر دستبردار کرایا۔

منظور پشتین اور ریاستی اداروں میں آنکھ مچولی دو سال سے جاری ہے، 28جنوری کی شام یہی پتا چلا کہ محسن داوڑ کو کچھ دیر میں رہا کر دیا جائے گا، رات گئے پتا چلا کہ محسن داوڑ کو تو چھوڑ دیا گیا لیکن اُن کے ہمراہ گرفتار ہونے والے 23دیگر افراد پر بغاوت کے مقدمے قائم کر کے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا۔

اہم بات یہ تھی کہ جن پر بغاوت کے مقدمے قائم ہوئے ان کا تعلق عوامی ورکرز پارٹی سے ہے اور اکثر پنجابی گھرانوں سے تعلق رکھتے ہیں، گرفتار ہونے والوں میں ایک اور قدرِ مشترک یہ تھی کہ ان میں سے کئی نوجوان بہت پڑھے لکھے ہیں۔

عمار رشید عوامی ورکرز پارٹی پنجاب کے صدر ہیں، انہوں نے 2018کا الیکشن اپنے گٹار کے ساتھ لڑا، لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز سے گریجویٹ ہیں اور برطانیہ کی سسیکس یونیورسٹی سے ماسٹرز کیا ہے، قائداعظم یونیورسٹی میں پڑھاتے بھی رہے ہیں۔

ایک اور گرفتار نوجوان نوفل سلیمی آکسفورڈ یونیورسٹی کے طالبعلم ہیں، اسلام آباد کی کچی آبادیوں سے غریبوں کو بےدخل کیا گیا تو وہ عوامی ورکرز پارٹی کے ساتھ مل کر احتجاج میں شامل ہونے لگے، اُن کی والدہ پروفیسر راشدہ سلیمی بیٹے کو ملنے اڈیالہ جیل گئیں تو ملاقات کی اجازت نہ ملی، سیف اللہ ناصر ہنگری سے پڑھ کر آئے ہیں۔ شاہ رکن عالم قائداعظم یونیورسٹی میں ایم فل کے طالبعلم ہیں۔

یہ سب ایک پُرامن احتجاجی مظاہرے میں شریک تھے، نہ کسی نے پاکستان کے خلاف نعرہ لگایا، نہ اعلانِ جنگ کیا لیکن ریاست نے ان پر بغاوت کے مقدمے قائم کر دیے۔ سوچنے کی بات ہے کہ سخت سردی اور بارش میں کسی کی گرفتاری کے خلاف آپ اپنے گھر سے نکل کر نعرے لگانے آئیں گے؟

یہ کام صرف وہی کر سکتا ہے جس کے سینے میں ایک درد مند دل دھڑکتا ہو، جو یہ سوچتا ہو کہ لاپتا افراد کیلئے آواز بلند کرنے والا ایک نوجوان خیبر پختونخوا میں گرفتار ہو گیا ہے تو اُس کیلئے پنجاب کے نوجوانوں کو بھی بولنا چاہئے تاکہ پاکستان کا وفاق مضبوط ہو سکے۔

ریاست کو زیادہ غصہ اسی بات پر آیا کہ ایک پختون کے حق میں پنجابی بولنے والے کیوں باہر نکلے ہیں اور اسی لئے لاہور کے ایک نوجوان محسن ابدالی کو بھی آدھی رات کو اُس کے گھر سے گرفتار کیا گیا۔

محسن ابدالی کے ساتھی عمار علی جان نے پنجاب اسمبلی کے باہر دھرنے کا اعلان کیا تو محسن کو رہا کر دیا گیا لیکن اسلام آباد میں گرفتار ہونے والوں کی تو درخواست ضمانت بھی مسترد کر دی گئی، عمار رشید اور نوفل سلیمی جیسے پڑھے لکھے نوجوانوں پر بغاوت کے مقدمے قائم کرنے والوں کو یہ یاد دلانا ہے کہ آپ نے باچا خان اور اُن کے بھائی ڈاکٹر عبدالجبار خان کو بھی غدار قرار دیا تھا۔

1947میں ڈاکٹر خان کو وزیراعلیٰ کے عہدے سے ہٹا دیا لیکن 1954میں انہیں مغربی پاکستان کا وزیراعلیٰ بنا دیا، 1940کی قراردادِ لاہور پیش کرنے والے اے کے فضل الحق کو 1952میں غدار قرار دے کر مشرقی پاکستان کی وزارتِ اعلیٰ سے محروم کیا گیا اور 1955میں اُنہیں وفاقی وزیرِ داخلہ بنا دیا۔

1951میں راولپنڈی سازش کیس میں فیض احمد فیضؔ کی وکالت کرنے پر حسین شہید سہروردی کو غدار کہا گیا اور 1956میں اُنہیں وزیراعظم بنا دیا، 1965میں فاطمہ جناح نے ایوب خان کے خلاف صدارتی الیکشن لڑا تو نواب خیر بخش مری مادرِ ملّت کی سیکورٹی کے انچارج بنائے گئے۔

ایوب خان نے دونوں کو غدار قرار دیا،  پھر شیخ مجیب الرحمٰن، غوث بخش بزنجو، عطاء اللہ مینگل، ذوالفقار علی بھٹو، بینظیر بھٹو، الطاف حسین، جی ایم سید اور نواز شریف بھی غدار قرار پائے، جس شخص کو سپریم کورٹ نے غدار قرار دیا اُسے ریاست غدار تسلیم نہیں کرتی اور اُس کا نام پرویز مشرف ہے۔

 پاکستان میں غداری کا الزام ایک مذاق اور بغاوت کا مقدمہ ریاست کی کمزوری کا نشان بن چکا ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ کچھ عرصہ قبل ایک فیصلے میں یہ حکم دے چکی ہے کہ ٹھوس ثبوت کے بغیر کسی پر بغاوت کا مقدمہ قائم نہ کیا جائے لیکن ریاست 1947سے لے کر آج تک بغاوت کے نام نہاد مقدموں کے ذریعہ پاکستان کے وجود کو کمزور کر رہی ہے۔

وزیرِ داخلہ اعجاز شاہ نے عمار رشید کے خلاف بغاوت کے مقدمے کا دفاع کیا اور یہ صاحب کچھ دن پہلے پرویز مشرف پر بغاوت کے الزام کی مذمت کر رہے تھے، یہ وہ تضاد ہے جو ریاست اور شہریوں کے مابین رشتے کو کمزور کرتا ہے، یہ تضاد ختم کرنے کیلئے قائداعظمؒ کے پاکستان میں بغاوت کے جھوٹے مقدمے بنانے کا سلسلہ بند کیا جائے۔ یہ کام پارلیمنٹ نہیں کرے گی، یہ کام بھی عدلیہ کو کرنا ہے ورنہ بغاوت کے مقدمے تمغے بن جائیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.