Spread the Story

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد اور اس کے گرد و نواح میں سیاحت کے شوقین افراد موسم سرما میں اکثر شمالی علاقہ جات کا رخ کرتے ہیں۔لیکن اگر آپ کو سردی ضرورت سے کچھ زیادہ محسوس ہوتی ہے اور برف باری کے نظارے صرف ٹی وی پر دیکھ کر خوش ہو سکتے ہیں تو شمالی علاقوں کے بجائے ذرا جنوبی علاقوں کا رخ کیجیے اور خطہ پوٹھوہار کا سفر کریں۔خطہ پوٹھوہار کی تاریخ کی ایک دلچسپ پہچان سکندرِ اعظم اور پنجاب کے ضلع جہلم کے علاقہ کے راجہ پورس کے درمیان 327 قبل مسیح میں ہونے والی لڑائی ہے۔

وقت کی دھول تو شاید ماضی کے ان اوراق پر گہری جم چکی ہے لیکن آج بھی اس خطے میں کئی قلعے اور سرائے اپنی زبوں حالی کے باوجود سینہ تان کر گزرے وقت کا احوال سناتے نظر آتے ہیں۔ایسی ہی کچھ خاموش کہانیاں سننے ہم بھی اسلام آباد سے نکلے اور پہلا پڑاؤ ڈالا روات فورٹ پر، جو اسلام آباد سے تقریباً 40 منٹ کی مسافت پر جی ٹی روڈ کے ساتھ ہی واقع ہے۔ لیکن گوگل میپس کا استعمال ذرا دھیان سے کیجیے گا کیونکہ یہ قلعہ ایک چھوٹے مگر گنجان آباد بازار کے پیچھے چھُپا ہے۔
پوٹھوہار

جب آپ قلعے کے دروازے پر پہنچ جائیں تو پہلا سبق حکومتِ پاکستان اور محکمہ آثار قدیمہ کی جانب سے لگے بورڈ کو پڑھ کر ملتا ہے۔ درحقیقت یہ عربی کا لفظ ’ربات‘ ہے جس کے معنی کاروان سرائے ہیں۔

پوٹھوہار

تو گویا ہم جسے قلعہ سمجھتے آئے ہیں وہ 15ویں صدی میں تعمیر ہونے والا کاروان سرائے ہے۔ یہاں گکھڑ قبیلے کے سارنگ خان، ان کے 16 بیٹوں اور شیر شاہ سوری کے درمیان لڑائی ہوئی تھی جس کے نتیجے میں سارنگ خان کو شکست ہوئی اور اسی قلعے کے احاطے میں تشدد کے بعد انھیں قتل کر دیا گیا اور اپنے بیٹوں سمیت یہی دفن ہوئے۔

کئی کلومیٹر پر پھیلے اس قلعے کے وسط میں تین گنبد والی مسجد ہے اور اس کے قریب ہی ایک اور حصہ جسے بارہ دری کا نام دیا گیا ہے۔ قطار در قطار کئی چھوٹے کمرے احاطے کو خاموشی سے گھیرے میں لیے ہوئے ہیں۔

روات فورٹ کے نام سے اپنی پہچان رکھنے والے اس کاروان سرائے میں چند لمحوں کے لیے ہی سہی پر یہ احساس ضرور ہوتا ہے کہ جیسے انسان تاریخ کے کسی ایسے باب میں داخل ہو گیا ہو جسے کھولنے یا جاننے کے طرف کبھی توجہ ہی نہیں دی گئی۔

احاطے سے جڑے کمرے چاہے اندھیرے ہوں پر ان میں آج بھی گزرے کل کی روشنی موجود ہے۔ جنگ، قتل اور تشدد کی داستان سے جڑے ہونے کے باوجود اس جگہ سے ڈر یا خوف کا احساس ختم ہو چکا ہے۔ اب بس باقی بچا ہے تو سارنگ خان اور ان کے بیٹوں کی بہادری کی کہانی اور شیر شاہ سوری کی فتوحات کی نشانیاں۔

سارنگ خان

اس کاروان سرائے میں گھومنے کے لیے تو ایک گھنٹہ کافی ہے لیکن اگر شہر کے شور سے دور وقت بِتانا چاہیں تو یہاں آرام سے مسجد کے سامنے بنے چھوٹے سے گارڈن یا باغ میں بیٹھا جا سکتا ہے۔

پھروالا فورٹ

روات فورٹ

یہ قلعہ بھی اسلام آباد سے تقریباً ایک گھنٹے کے مسافت پر ہے۔ تحصیل کہوٹہ میں واقع یہ قلعہ بھی 11ویں صدی میں راجپوت گکھڑ قبیلے کے حکمران نے ہی بنوایا تھا۔

جو راستہ اس قلعے کی طرف جاتا ہے وہ ایک رویا پکی سڑک ہے اس لیے کسی بھی گاڑی کا جانا آسان ہے۔ لیکن اگر آپ پہاڑوں کے بیچ گھرے ہوئے سر سبز کھیتوں اور قدرتی جھیلوں کے عکس میں آسمان دیکھنے کے خواہش مند ہیں تو بہتر ہو گا کہ آپ کی گاڑی کوئی اور چلائے ورنہ بہت سے نظارے نظروں سے اوجھل بھی رہ سکتے ہیں۔

بل کھاتی، ہلکی چڑھائی کرتی اس سڑک پر کچھ دور جا کر ایک موڑ آپ کو پھروالا فورٹ کی طرف لے جاتا ہے۔ دور سے قلعے کے دو دروازے اونچائی سے وہاں آنے والوں کا استقبال کرتے ہیں۔

پوٹھوہار

ہاتھی گیٹ اور لشکر گیٹ کے آثار اب بھی ان کے قریب پہنچنے والوں کو مایوس نہیں کرتے بلکہ اپنے رعب اور دبددبے کے باوجود خوش آمدید کہتے ہیں۔ دور دور تک خاموشی اور نیچے دریائے سواں کے پانی کا شور انسان کے اندر کھوئی ہوئی کسی دنیا کا راستہ کھول دیتا ہے۔

نیلے آسمان تلے بڑے پتھروں سے بنے قلعے کی عمارت اور پانی میں اس کا عکس قدرت کا وہ منظر ہے جو کسی کو بھی اپنے سحرمیں قید کرنے کے لیے کافی ہے۔

مگر پھروالا فورٹ میں اتنا کچھ دیکھنے کے لیے باقی نہیں بچا۔ ہاں پہاڑوں کے بیچ دریائے سواں کی موجودگی یقیناً وہ چیز ہے جو وہاں جانے پر مجبور کر دیتی ہے۔

یہ منظر دیکھنے اور اس سے لطف اندوز ہونے کے لیے اپنے ساتھ کوئی گدا لے جانا مت بھولیے گا۔ قلعے کے باقیات تک جانے کے لیے پتھروں پر سے پانی پار کرنا پڑے گا تو آرام دہ جوتے ہونا بھی لازمی ہے۔

قلعہ روہتاس

قلعہ روہتاس

اب باری آتی ہے ایک اور پراسرار قلعے کی جہاں کی سیر اکثر سکول کے بچوں کو بھی کرائی جاتی ہے۔

اسلام آباد سے لگ بھگ دو گھنٹے کی ڈرائیو پر قلعہ روہتاس موجود ہے جسے 16ویں صدری میں شیر شاہ سوری نے تعمیر کروایا تھا۔

داخلی دروازے سے اندر جا کر بلند و بالا دروازوں سے گزرنے کے بعد قلعے کے اندر پہلی نظر مان سنگھ کی حویلی کی باقیات پر پڑتی ہے۔

ایک اونچی عمارت جو ماضی میں مضبوط اور حال میں کچھ بدحال نظر آتی ہے۔ اس کے باوجود اس کی کشش آپ کو اس کی جانب لے جائے گی۔

قلعہ روہتاس

کسی محافظ کی طرح چاروں طرف مدھم گلابی رنگوں کے مضبوط پتھروں سے بنے قلعے کی فصیل نہ صرف کچھ گھڑیوں کے لیے تحفظ کا احساس دلاتی ہیں بلکہ گزرے کل کی شان و شوکت کا پتا بھی دیتی ہے۔

لیکن یہاں بھی وہی مسئلہ ہے، حویلی کے ٹیلے پر چڑھنے کے لیے کوئی باقاعدہ راستہ نہیں ہے۔ یعنی پیر پھسلا تو سفر یادگار سے زیادہ تکلیف دہ ثابت ہو گا۔

فصیل پر چڑھنے کے لیے پرانی سیڑھیاں بھی پوری توجہ مانگتی ہیں۔ قلعے میں پانی کی باولی کا ہم نے بہت سن رکھا تھا اس لیے اس کی تلاش بھی خوب کی لیکن قلعے کے اندر کوئی بھی گائیڈ کرنے والا بورڈ موجود نہیں۔ اس کی وجہ سے پورے قلعے کی سیر نہ چاہتے ہوئے بھی کرنی پڑ سکتی ہے۔

قلعہ روہتاس

ہاں اگر آپ داخلی دروازے سے گائیڈ کی خدمات لیں گے تو شاید 12 دروازوں کی سیر بہتر طریقے سے کر سکیں گے۔ شاہ چاند والا دروازہ، سہیل گیٹ، کابلی دروازہ اور شاہی مسجد، یہ قلعے کے وہ مقامات ہیں جن تک پہنچنے کے لیے اندر ہی کئی کلو میٹر پیدل سفر کرنا پڑتا ہے۔

پر جیسے جیسے آپ ان کے قریب ہوں گے اس قلعے کو خود پر حاوی ہوتا محسوس کریں گے۔

حویلی مان سنگھ
Image captionقلعہ روہتاس میں حویلی مان سنگھ

اس قلعے کی خاموشی اسے مزید پراسرار بناتی ہے جو اندر تک سرائیت کرنے لگتی ہے۔ قلعے کی فصیل پر چڑھ کر ارد گرد کا پورا علاقہ دیکھنا مت بھولیے گا۔

بھرپور اترنے چڑھنے کے بعد روہتاس قلعے سے باہر نکل کر منگلا کینٹ کی طرف جانا مت بھولیں کیونکہ منگلا ڈیم سے آئی تازہ مچھلی کھانے کا مزہ آپ کو وہیں آئے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.