مسجد اقصیٰ کے حرم الشریف کہلانے والے احاطے کو کورونا وائرس کی وجہ سے بند کر دیا گیا

Spread the Story

دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے تیسرے مقدس ترین مقام اور یروشلم میں واقع مسجد اقصیٰ کے حرم الشریف کہلانے والے احاطے کو کورونا وائرس کی وبا کی وجہ سے آج پیر تیئیس مارچ سے عام نمازیوں کے لیے بند کر دیا گیا۔
حرم الشریف میں عام مسلمانوں کا نماز کے لیے داخلہ اتوار اور پیر کی درمیانی شب سے غیر معینہ مدت کے لیے مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے۔ مسجد اقصیٰ کے احاطے کا انتظام اردن کی سربراہی میں ایک اسلامی مقتدرہ کے پاس ہے۔ اس اتھارٹی نے اتوار بائیس مارچ کی رات اعلان کر دیا تھا کہ حرم الشریف کو مجبوراً لیکن ہر قسم کے عام شہریوں اور نمازیوں کے لیے بند کرنے کا فیصلہ اس لیے کیا گیا ہے کہ کورونا وائرس کی تیزی سے پھیلتی ہوئی وبا پر قابو پانے میں مدد مل سکے۔

ساتھ ہی وقف کہلانے والی اس مقتدرہ نے اپنے ایک بیان میں مسلمانوں سے اپیل کرتے ہوئے کہا، ”تمام مسلمان عبادت گزاروں سے یہ درخواست کی جاتی ہے کہ وہ اس بات کو سمجھیں کہ حرم الشریف کی بندش کا فیصلہ طبی حوالے سے پائے جانے والے جائز اور قابل فہم خدشات کی بنا پر کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی مسلمانوں سے یہ درخواست بھی کی جاتی ہے کہ وہ اپنی نمازیں اپنے گھروں میں ہی پڑھیں
شاذ و نادر کیا جانے والا فیصلہ
یروشلم میں، جسے مسلمان بیت المقدس کہتے ہیں، مسجد اقصیٰ کے حرم الشریف کہلانے والے احاطے کی بندش ایک ایسا انتہائی اقدام ہے جو عشروں بعد ہی کبھی کبھار دیکھنے میں آتا ہے۔ آج سے پہلے حرم الشریف کو نمازیوں کے لیے آخری مرتبہ انیس سو سڑسٹھ میں اس وقت بند کیا گیا تھا، جب تریپن برس قبل عرب ممالک اور اسرائیل کے مابین جنگ ہوئی تھی۔
یہ جگہ دنیا کے تینوں بڑے الہامی مذاہب کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ مسلمانوں کے لیے مسجد اقصیٰ اور حرم شریف کی وجہ سے جو سعودی عرب کے شہر مکہ میں خانہ کعبہ کے قبلہ قرار دیے جانے سے قبل مسلمانوں کا قبل اول تھا۔ اسی لیے آج بھی مکہ میں خانہ کعبہ اور مدینہ میں پیغمبراسلام کی آخری آرام گاہ والی مسجد نبوی کے بعد یروشلم میں حرم الشریف مسلمانوں کے لیے دنیا کا تیسرا مقدس ترین مقام ہے۔
اسی طرح یروشلم شہر کے قدیمی حصے کا وہ پہاڑی علاقہ جہاں حرم الشریف واقع ہے اور جسے انگریزی میں ٹیمپل ماؤنٹ کہا جاتا ہے، مسیحیوں اور یہودیوں کے لیے بھی انتہائی زیادہ مذہبی تقدیس کا حامل علاقہ ہے۔ یہودیوں کے لیے دنیا کا مقدس ترین مقام وہ دیوار گریہ ہے، جو اسی ٹیمپل ماؤنٹ کا حصہ ہے، جو مسجد اقصیٰ کے سنہری گنبد سے زیادہ دور نہیں اور جسے مسلمان عربی میں حائط البراق کہتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.