پاکستان میں کورونا کے علاج کیلئے چینی طریقہ اپنانے پر زور

Spread the Story

لاہور (جی سی این رپورٹ) پاکستان میں کرونا سے صحتیاب افراد کا پلازمہ علاج کیلئے استعمال کرنے پر غور شروع کردیا گیا ہے۔تفصیلات کے مطابق چین اور امریکہ کے بعد پاکستانی حکومت نے بھی کرونا وائرس سے شدید طور پر متاثرہ افراد کے علاج کیلئے اسی بیماری یعنی کرونا وائرس سے صحتیاب ہونے والے افراد کا بلڈ پلازمہ استعمال کرنے پر مشاورت شروع کر دی ہے ہے۔
چین میں کرونا وائرس سے شدید متاثرہ افراد کا علاج کرنے کے لیے صحت یاب ہونے والوں کا بلڈ پلازمہ لگانے پر بہت کامیابی حاصل ہوئی تھی اس کے بعد امریکی ماہرین نے بھی کرونا وائرس کی وبا سے نمٹنے کے لیے یہی تجویز دی۔پاکستان میں بھی اسی تکنیک پر ماہرین سے مشاورت شروع کر دی گئی ہے جبکہ باقاعدہ لائحہ عمل کا اعلان آئندہ 36 گھنٹوں میں متوقع ہے۔
صوبائی وزیر صحت پنجاب ڈاکٹر یاسمین راشد نے بھی اس حوالے سے امراض خون کے مشہور پاکستانی ماہر ڈاکٹر طاہر شمسی سے رابطوں کی تصدیق کی ہے۔وائرس سےصحتیاب افراد کا پلازمہ شدید متاثرین میں منتقل کیا جاتا ہے تاکہ پلازمہ موجود متعلقہ اینٹی بوڈیز متاثرہ شخص میں وقتی طور پر اس نئی بیماری کے خلاف مدافعت پیدا کرسکیں کی۔ اسی حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر طاہر شمسی کا کہنا ہے کہ ایک وقت میں کسی ڈونر سے 500 ایم ایل سے 900 ایم ایل پلازمہ نکالا جاتا ہے۔
پلازمہ دینے والے جو صحتمند ڈونرز ہوتے ہیں وہ ہر ایک ہفتے کے بعد پلازمہ دوبارہ دے سکتے ہیں۔ڈاکٹر طاہر شمسی کا مزید کہنا ہے کہ صحت مند ڈونر ہر ہفتے پلازمہ دے سکتے ہیں اور پورا سال بھی دے سکتے ہیں۔یہ پلازمہ ان افراد سے نکالا جائے گا جو پہلے کرونا وائرس سے متاثر رہے ہوں۔ایک شخص کے جسم سے نکالا ہوا پلازمہ ایک مریض کو ہی لگایا جاسکے گا۔
اس طرح دس لوگوں سے نکالا گیا پلازمہ دس مریضوں کو لگایا جاسکے گا۔اس طرح ایک پلازمہ سے ایک انسان کی زندگی بچ سکتی ہے۔
ڈاکٹر طاہر شمسی کا مزید کہنا ہے کہ چائنہ میں یہی طریقہ کار اپنا کر کئی لوگوں کی زندگیاں بچائی گئی۔لیکن یورپ اور امریکہ میں اس طریقہ کار پر عمل نہیں کیا گیا۔یہ طریقہ کار عالمی ادارہ صحت سے بھی منظور شدہ ہے۔
جب 2014 میں ایبولا وائرس آیا تھا تو عالمی ادارہ صحت نے نے کہا تھا کہ وہ افراد جو ایبولا وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں اور اس کے بعد صحتیاب ہوچکے ہیں ان کا پلازمہ نکال کر کر ایبولا وائرس کے مریضوں کو لگایا جاسکتا ہے۔اسی طریقہ کار پر عمل کرنے کے لیے کچھ سامان چاہئیے ہو گا جس کے بعد آسانی سے پاکستان میں بھی اس طریقہ کار پر عمل کرتے ہوئے کورونا کے مریضوں کی زندگی بچائی جا سکتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.